Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

نیتن یاہو کے خلاف کارروائی روکنے کی کوشش، امریکہ کی عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں

واشنگٹن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے خلاف ایک نیا اور ظالمانہ تعزیراتی قدم اٹھاتے ہوئے عدالت کی جاپانی صدر جج توموكو أكانيی اور استغاثہ کے سینئر وکیل سینیگال کے عبد اللہ سی کو سخت پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ جوابی اقدام مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر قابض اسرائیلی جرائم سے متعلق عدالتی تحقیقات کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔

یہ پابندیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے عدالت کے خلاف اٹھائے جانے والے تازہ ترین اقدامات کا حصہ ہیں، جن کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے جرائم میں ملوث اسرائیلی عہدیداروں کے احتساب کو روکنا اور ان کا تعاقب کرنے کی کوششوں کو سبوتاژکرنا ہے۔

اثاثوں کی منجمدی، مالی پابندیاں اور داخلے پر پابندی

امریکی وزارتِ خزانہ نے توموكو أكانی اور عبد اللہ سی کو پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکہ یا اس کے دائرہ اختیار میں آنے والے کسی بھی مقام پر ان کے تمام اثاثے اور مالی مفادات منجمد کر دیے گئے ہیں۔ امریکی شہریوں اور اداروں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی یا تجارتی لین دین سے روک دیا گیا ہے۔ ان ضوابط میں انہیں امریکہ میں داخلے سے روکنا بھی شامل ہے۔

ان مالی پابندیوں کا دائرہ کار صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے، بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا امریکی بینکنگ سسٹم اور ڈالر کے ساتھ گہرا تعلق ہونے کی وجہ سے یہ قدغنیں ان کے لیے دنیا بھر میں مالیاتی خدمات تک رسائی کو بھی انتہائی مشکل بنا سکتی ہیں۔

یہ اقدامات ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عدالت کے خلاف شروع کی گئی اس وسیع تر مہم کا حصہ ہیں جس کا نشانہ اس سے قبل بھی عدالت کے حکام، جج صاحبان اور ان کا ساتھ دینے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں بنتی رہی ہیں، کیونکہ عدالت امریکہ اور اسرائیل کے شہریوں اور عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔ واشنگتن نے پہلے ہی یہ واضح موقف اختیار کر رکھا ہے کہ وہ امریکی شہریوں سے متعلق مقدمات میں عدالت کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعاون کو یکسر مسترد کرتا ہے۔

واشنگٹن نے أكانی اور سی کو کیوں نشانہ بنایا؟

توموكو أكانی بین الاقوامی فوجداری عدالت کی صدارت کے منصب پر فائز ہیں، جبکہ عبد اللہ سی اس استغاثہ ٹیم کا حصہ ہیں جو اسرائیل سے متعلق عدالت کے مقدمات کی پیروی کر رہی ہے۔

انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا ہے جب واشنگٹن کی طرف سے عدالت کے خلاف مہم اس وقت سے جاری ہے جب سے عدالت نے غزہ کی پٹی میں جنگی جرائم اور انسانیت سوز جرائم میں ملوث ہونے کے الزام میں اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نتنياهو اور سابق وزیر دفاع يوآف گیلانٹ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جن حکام کو نشانہ بنایا گیا ہے انہوں نے ایسی حکومتوں کے عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کی کوششوں میں حصہ لیا تھا جنہوں نے اس عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کیا، جبکہ موصوف نے عدالت کو بدعنوان، سیاسی رنگ میں رنگی ہوئی اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے والی تنظیم قرار دیا۔

امریکی انتظامیہ نے کھلم کھلا یہ اعلان کیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امریکی خودمختاری کا تحفظ کرنا اور عدالت کو امریکی شہریوں، حکام یا امریکہ کے اتحادی ممالک کے عہدیداروں پر اپنا دائرہ اختیار استعمال کرنے سے روکنا ہے۔

عدالت: پابندیاں قانون کی حکمرانی کے لیے خطرہ ہیں

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے امریکہ کی ان پابندیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات قانون کی حکمرانی کو کمزور کرتے ہیں اور بین الاقوامی عدلیہ کی خودمختاری پر حملہ ہیں۔

عدالت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اپنے فرائضِ منصبی کی انجام دہی کی وجہ سے ججوں اور پراسیکیوٹرز پر دباؤ ڈالنا بین الاقوامی قانونی نظام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، تاہم اس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ پوری آزادی اور غیر جان داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتی رہے گی۔

یہ محاذ آرائی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عدالت کو اسرائیل سے متعلق اپنے مقدمات کی وجہ سے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، خصوصاً جب سے اس نے نتنياهو اور غالانت کے وارنٹ جاری کیے ہیں، اس کے علاوہ وہ یوکرین اور افغانستان کی جنگوں سے متعلق دیگر فائلز پر بھی کارروائی کر رہی ہے۔

ردِ عمل

امریکی فیصلے کے بعد عالمی سطح پر مذمتی ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ جاپان نے امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے بیان میں اس فیصلے کو “انتہائی افسوسناک” قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ٹوکیو بین الاقوامی فوجداری عدالت اور سنگین ترین بین الاقوامی جرائم کے مجرموں کا احتساب کرنے اور قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنے کی اس کی کوششوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

جاپانی موقف کو اس لیے بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے کہ أكانی کا تعلق جاپان سے ہے۔ ٹوکیو سال 2007ء میں روم کے بنیادی قانون میں شمولیت کے بعد سے اس عدالت کے نمایاں ترین حامیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جاپان عدالت کے بجٹ میں سب سے بڑے عطیہ دہندگان میں سے ایک ہے اور ان ممالک میں شامل ہے جو سیاسی دباؤ سے اس کے استقلال کی بقا پر زور دیتے ہیں۔

ہالینڈ کا عدالت پر دباؤ ڈالنے سے انکار

عدالت کے میزبان ملک ہالینڈ نے بھی امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے عدالت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ وہ مکمل آزادی کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دینے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

ہالینڈ کا یہ موقف اس بات کی تائید کرتا ہے کہ بین الاقوامی عدلیہ کے استقلال کو صادر ہونے والے عدل و انصاف کے فیصلوں کی وجہ سے کسی بھی قسم کے دباؤ یا تعزیراتی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔

فریقین کے یہ متضاد مؤقف بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گرد منڈلاتے ہوئے بڑھتے ہوئے سیاسی انحراف کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں جو ان معاملات میں عدالت کے دائرہ اختیار کو ماننے سے انکاری ہیں، جبکہ دوسری طرف روما معاہدے کے رکن ممالک ہیں جو اس عدالت کو بین الاقوامی مجرموں کے احتساب کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہیں اور سیاسی دباؤ سے اس کے استقلال کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan