مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسرائیلی قابض افواج نے گزشتہ شب اور منگل کی صبح مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور قصبوں میں وسیع پیمانے پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کارروائی کا مرکز نابلس شہر تھا، جہاں قابض اسرائیلی فوج نے انتہا پسند آباد کاروں کو “قبر یوسف” تک پہنچانے کے لیے سیکیورٹی فراہم کی۔
مقامی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد نے نابلس کے مشرقی علاقے کا محاصرہ کیا، جہاں ساؤنڈ بموں کا استعمال کیا گیا اور صحافیوں کو علاقے سے دور دھکیل دیا گیا۔ اس دوران شہر کے مشرق میں واقع گاؤں “عراق التایہ” کے چوک پر گاڑیوں کی تلاشی بھی لی گئی۔ قابض فوج کی سرپرستی میں آباد کاروں نے قبر یوسف پر دھاوا بولا، جبکہ اسی دوران “کفر قلیل” گاؤں اور “عسکر الجدید” کیمپ میں بھی فوجی یلغار کی گئی۔
اسرائیلی جارحیت مغربی کنارے کے دیگر حصوں تک پھیل گئی، جس میں درج ذیل علاقے شامل رہے:
طولکرم کے شمال میں واقع قصبوں “دیر الغصون” اور “صیدا” میں بھی اسرائیلی فوجی داخل ہوئے۔ صیدا میں ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا، جبکہ دیر الغصون میں “یزن سائد بدران” نامی نوجوان کو اس کے گھر سے گرفتار کر لیا گیا۔ قلندیا کیمپ میں ایک نوجوان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
اسی دوران، الخلیل کے جنوب میں واقع شہر “دورا” کے مغرب میں “جبل طاروسا” کی چوٹی پر اسرائیلی پرچم لہرایا گیا، جسے فلسطینیوں کے خلاف ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ان واقعات کے تناظر میں، مختلف فلسطینی حلقوں کی جانب سے مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضے اور آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے خلاف مزاحمت کو تیز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
