مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں آج بروز پیر انتہا پسند آبادکاروں نے دہشت گردانہ حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جس میں فلسطینیوں کی املاک اور چراگاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔
نابلس کے جنوبی دیہاتوں اور قصبوں میں مسلح آبادکاروں نے متعدد شہریوں اور ان کے گھروں پر ہلہ بول دیا جبکہ جالود نامی گاؤں کی زمینوں پر جبری قبضے کے لیے خیمے نصب کر دیے گئے۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آبادکاروں نے بیتا قصبے کے مضافات میں واقع الظہرہ کے علاقے پر دھاوا بولا اور شہریوں کے گھروں اور املاک پر وحشیانہ حملہ کیا۔ اسی طرح انہوں نے بیتا قصبے ہی کے علاقے قماص میں پانی کی لائن کی مرمت میں مصروف بلدیہ کے ملازمین کو بھی اپنے تشدد کا نشانہ بنایا۔
مشرقی علاقے میں بھی قبر یوسف کے قریب آبادکاروں کی اشتعال انگیز نقل و حرکت دیکھی گئی جہاں انہوں نے نسل پرستانہ نعرے بازی کی اور قریبی پناہ گزین کیمپوں کے گرد و نواح میں عوامی املاک کو نقصان پہنچایا۔
اسی تسلسل میں آبادکاروں نے دوما گاؤں کی اراضی سے ملحقہ خربہ المراجم میں ایک گھر پر حملہ کیا۔ انہوں نے شہری نایف موسیٰ مسلم کے گھر کو نشانہ بنایا اور ان کے پانی کے میٹر کو توڑ پھوڑ کر ناکارہ بنا دیا۔
ادھر آبادکاروں کے ایک گروہ نے جالود گاؤں کے مشرق میں واقع علاقے الظہر میں زمین پر قبضے کی نیت سے خیمے گاڑ دیے۔
سلفیت گورنری میں بھی آبادکاروں کے گروہوں نے قابض اسرائیل کی افواج کی سنگینوں کے سائے میں شہر کے شمال میں واقع بلدة کفل حارس پر دھاوا بولا۔ وہاں انہوں نے فلسطینیوں کے گھروں پر پتھراؤ کیا اور املاک کو نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں کئی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور رہائشیوں بالخصوص بچوں اور خواتین میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا۔
خلیل کے جنوب میں واقع مسافر یطا کے علاقے میں آبادکاروں نے علی الصبح سے ہی اپنی سفاکیت جاری رکھی۔ انہوں نے چرواہوں کا پیچھا کر کے انہیں ان کی چراگاہوں تک پہنچنے سے روک دیا اور ان ذیلی راستوں کو بھی بند کر دیا جو اس علاقے کے سکولوں اور زرعی دیہاتوں کی طرف جاتے ہیں۔
دیوارِ فاصلہ اور آبادکاری مخالف مزاحمتی کمیشن کے مطابق قابض اسرائیل اور آبادکاروں نے گذشتہ ماہ مارچ کے دوران 1819 حملے کیے۔ ان میں سے 1322 حملے قابض اسرائیلی فوج نے جبکہ 497 حملے آبادکاروں نے کیے۔ یہ حملے زیادہ تر خلیل، نابلس، رام اللہ، البیرہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں جسمانی تشدد، درختوں کو اکھاڑنا، کھیتوں کو آگ لگانا، اراضی تک رسائی سے روکنا، املاک پر قبضہ اور گھروں و زرعی تنصیبات کی مسماری شامل ہے۔
یہ حملے حالیہ عرصے میں آبادکاروں اور قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے بڑھتی ہوئی منظم دہشت گردی کا حصہ ہیں جس میں شہریوں کے گھروں میں گھسنا، درختوں کی کٹائی اور زرعی کمروں کی تباہی جیسے جرائم شامل ہیں۔ ان اقدامات نے مغربی کنارے میں کشیدگی کی لہر کو مزید شدید کر دیا ہے۔
