مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹک رکن رو خانا نے کہا ہے کہ مغربی کنارے کے دورے کے دوران امریکی ساختہ ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی آباد کاروں نے انہیں یرغمال بنا لیا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس دورے نے انہیں براہِ راست فلسطینیوں کی زندگیوں پر قبضے کے اثرات سے روشناس کرایا ہے۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، رو خانا نے جنوبی مغربی کنارے کے ایک گاؤں میں موجودگی کے دوران بتایا کہ جب وہ اس علاقے کا دورہ کر رہے تھے جہاں فلسطینی رہائشیوں پر مسلسل حملے ہوتے ہیں، تو ایم 4 رائفلوں سے لیس آباد کاروں نے ان کی گاڑی کا محاصرہ کر لیا۔
رو خانا نے وضاحت کی کہ وہ اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک ایسے گاؤں میں تھے جہاں توڑ پھوڑ کی گئی تھی، انہوں نے بتایا کہ آباد کاروں نے گاؤں کا اسکول اور دیگر سہولیات تباہ کر دی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا گروپ تباہی کے آثار کو دستاویزی شکل دے رہا تھا کہ اسی دوران مسلح افراد نے انہیں روک لیا اور راستہ بند کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آباد کاروں نے اسرائیلی فوج کو طلب کیا، اور ان کے الفاظ کے مطابق، وہاں پہنچنے والی فوج نے ان کی (آباد کاروں کی) حمایت کی، نہ کہ امریکی وفد کی۔
اس واقعے پر رو خانا کے ہمراہ موجود کیمرون کاسکی نے کہا کہ ان کے گروپ کو ایک گھنٹے سے زائد وقت تک روکے رکھا گیا۔ انہیں مدد کے لیے قدس میں امریکی سفارت خانے سے رابطہ کرنا پڑا، جس کے بعد پولیس کے اہلکار سمجھے جانے والے افراد نے مداخلت کر کے انہیں رہائی دلائی۔
یہ واقعہ امریکہ کے اندر سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں پیش آیا ہے۔ رو خانا سنہ 2028ء کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر غور کر رہے ہیں اور وہ ان ڈیموکریٹک شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے فلسطین اسرائیل تنازع پر اپنے موقف کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
رو خانا کا کہنا ہے کہ اس دورے کے بعد وہ صدارتی دوڑ میں شامل ہونے کی جانب مزید مائل ہوئے ہیں، اور انہوں نے نشاندہی کی کہ فلسطین اور غزہ کے معاملات ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ایک اخلاقی امتحان کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
ان کے موقف سے پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم عیاں ہوتی ہے۔ ’رائٹرز‘ اور ’ایپسوس‘ کے سروے کے مطابق، ڈیموکریٹس کی جانب سے اسرائیل کی حمایت سنہ 2018ء میں 59 فیصد تھی جو مئی سنہ 2026ء میں کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید ہے۔
اگرچہ دونوں بڑی جماعتوں کی جانب سے اسرائیل کی روایتی حمایت جاری ہے، تاہم ڈیموکریٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد اسرائیل کو ملنے والی سالانہ 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد بند کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، جس میں ہلکے ہتھیاروں اور دفاعی نظام کے لیے فنڈنگ شامل ہے۔
ترمسعیا قصبے کے قریب، جہاں امریکی شہریت کے حامل کئی فلسطینی آباد ہیں، کے دورے کے دوران رو خانا نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی پارٹی کی قیادت فلسطینی علاقوں کی صورتحال سے جڑے اخلاقی چیلنج کی شدت کو نہیں سمجھ پا رہی۔
انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر اپنا دورہ مغربی کنارے تک محدود رکھا اور اسے فلسطینی تنظیموں کے ذریعے ترتیب دیا تاکہ انہیں صورتحال کی مکمل میدانی تصویر مل سکے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع اور خلاف ورزیوں کی مذمت اخلاقی موقف کے لیے ایک بنیادی معیار کی حیثیت رکھتی ہے۔
اقوامِ متحدہ اور دنیا کے بیشتر ممالک چوتھے جنیوا کنونشن کے تحت اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔
