مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے خبر دار کیا ہے کہ قابض دشمن کے مجرم وزیر جنگ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں سے متعلق انتظامی اور عملی اختیارات فوج سے صیہونی پولیس کو منتقل کرنے کا فیصلہ انتہائی خطرناک ہے۔
جماعت نے ایک پریس بیان میں اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ عملی طور پر الحاق مسلط کرنے اور قابض قوانین نافذ کر کے مقبوضہ فلسطینی زمینوں پر تسلط کو مضبوط کرنے کی خطرناک راہ پر ایک قدم ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جو نوآبادیاتی بستیوں کو جرم قرار دیتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان اختیارات کی متشدد اور مجرم وزیر بن گویر کے ماتحت کام کرنے والی قابض پولیس کو منتقلی، قابض حکومت کی اس پالیسی سے الگ نہیں کی جا سکتی جو مغربی کنارے میں بستیاں بسانے اور نئے حقائق مسلط کرنے، ہمارے عوام، ان کی املاک اور مقدسات کے خلاف یہودی آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور جرائم کو غلاف اور مزید تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
حماس نے دہشت گرد قابض حکومت کے ان تیز رفتار فیصلوں سے خبردار کیا جن کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے کی قانونی اور سیاسی حیثیت کو تبدیل کرنا، الحاق اور یہودیت کے منصوبوں کو مسلط کرنا، ہمارے عوام کے حقِ خود ارادیت اور اپنی ریاست کے قیام کے حق کو کمزور کرنا ہے۔ اس نے ان کا ہر ممکنہ طریقے سے مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جماعت نے عرب اور اسلامی ممالک، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کیا کہ وہ الحاق اور نوآبادیاتی منصوبوں کا مقابلہ کرنے اور ان خطرناک اقدامات کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے فوری سیاسی اور سفارتی اقدام کریں۔
حماس نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، محض مذمتی بیانات پر اکتفا نہ کریں، بلکہ قابض دشمن کے منصوبوں کو روکنے، اس کے جرائم اور پامالیوں پر اس کا محاسبہ کرنے اور ہمارے فلسطینی عوام، ان کی زمین اور مقدسات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔
