Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی قید سے آزادی، مگر غزہ کے باپ ’السيقلی‘ کے لیے غم کا نیا سفر شروع ہوگیا

خان یونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) احمد عبد الكريم السيقلی چند دن قبل قابض اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے بعد غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان يونس واپس آ گئے، لیکن وہ اس گھر میں نہیں لوٹے جسے وہ چھوڑ کر گئے تھے اور نہ ہی ان بچوں کے پاس جن سے وہ دوبارہ ملنے کے خواب دیکھتے تھے۔ وہ ایک ایسے شہر میں واپس آئے جو ملبے کے ڈھیر میں بدل چکا ہے، ایک ایسے خاندان میں لوٹے جسے بمباری نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا اور وہ اپنے سینے میں ایک ایسی دل دوز کہانی لیے ہوئے ہیں جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

السيقلی کا کہنا ہے کہ رہائی کی خوشی پہلے ہی لمحے محرومی اور جدائی کے درد میں گھل گئی، کیونکہ قید کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ ان کے چھٹیوں بچے اس اسرائیلی بمباری میں شہید ہو گئے جو اس گھر پر کی گئی تھی جہاں ان کا خاندان پناہ لیے ہوئے تھا، جبکہ ان کی اہلیہ اور بیٹی زخمی ہونے کے بعد زندہ بچ گئی۔

السيقلی اٹھارہ دسمبر سنہ 2023ء کے اس دن کو یاد کرتے ہیں جب جنگ کے آغاز میں انہیں اپنے بچوں کی شہادت کی خبر ملی، یہ خبر ان کے دل میں موجود سکون اور اطمینان کے آخری ذرے کو بھی اکھاڑ کر پھینک دینے والے صدمے کی طرح نازل ہوئی۔

السيقلی نے جنگ کے آغاز میں اپنی والدہ کو وصیت کی تھی کہ ان کا خاندان زیادہ محفوظ مقام کی تلاش میں شارع الصحابہ میں ان کے رشتہ داروں کے گھر منتقل ہو جائے۔ چنانچہ خاندان نے اپنا گھر چھوڑ دیا، لیکن بمباری اس جگہ تک ان کا پیچھا کرتی رہی جہاں انہوں نے پناہ لی تھی۔

خاندان نے پچاس میٹر کا سفر طے کرنے کے بعد ایک ایسے گھر میں ڈیرہ ڈالا جو درجنوں بے سارا افراد کو پناہ دیے ہوئے تھا، ابھی تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اس گھر کو بمباری کا نشانہ بنا ڈالا گیا جسے انہوں نے اپنی پناہ گاہ سمجھ رکھا تھا۔

السيقلی کے چھ کے چھ بچے اس بمباری میں شہید ہو گئے، جن میں آٹھ سال کی عمر کے تین جڑواں بچے بھی شامل تھے، اس کے علاوہ دو سال کی ایک بچی بھی شہید ہو گئی، جبکہ ان کا سب سے بڑا بیٹا سولہ سال کا تھا، اور ان کی اہلیہ اور بیٹی زخمی ہو گئیں۔

وہ باپ اپنے بچوں کے نام اور ان کے چہروں کے نقوش یاد کرتے ہوئے پوچھتا ہے کہ اس دو سالہ بچے کا کیا گناہ تھا، ان تین جڑواں بچوں کا کیا قصور تھا جو جنگ سے صرف خوف اور نقل مکانی کے علاوہ کچھ نہیں جان پائے تھے، اس بچے کا کیا گناہ تھا جس کی عمر سولہ سال سے زیادہ نہیں تھی، جبکہ ان کے پاس بچنے والا واحد جواب صرف محرومی کی خاموشی ہے۔

السيقلی جب اپنے بچوں کے بچھڑنے کے درد سے گزر رہے تھے تو وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کی آزمائش ایک اور رخ اختیار کرنے والی ہے؛ کیونکہ جب وہ جحر الديك کے علاقے سے نقل مکانی کی کوشش کر رہے تھے تو انہیں دیگر افراد کے ساتھ زبردستی ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر کے قابض فوج کے غاصبانہ پنجوں میں قیدی بنا لیا گیا۔

السيقلي قید کے دوران پیش آنے والے حالات کو پامالی، ذلت اور تشدد کا ایک سلسلہ قرار دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فوجیوں نے انہیں اور ان کے ساتھ موجود دیگر افراد کو زمین پر گرا دیا اور ان پر وحشیانہ تشدد کیا، جس کے بعد انہیں عوفر جیل منتقل کر دیا گیا۔

اس قیدی نے جیل کے اندر انتہائی سخت حالات، شدید بھیڑ بھاڑ اور زندگی کی ابتدائی بنیادی سہولیات سے محرومی کے عالم میں طویل دن گزارے، یہاں تک کہ بعد میں انہیں کرم أبو سالم کے راستے غزہ کی پٹی کی طرف منتقل کر دیا گیا۔

السيقلی رہائی کے اس لمحے کو یاد کرتے ہیں جب ان کے ہاتھوں سے ہتھکڑیاں کھول دی گئیں اور انہیں ریڈ کراس کی طرف جانے والے راستے پر چلنے کا اشارہ کیا گیا، لیکن وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ غزہ کی طرف جانے والا یہ راستہ انہیں ایک ایسے منظر کی طرف لے جائے گا جو کسی بھی انسان کے تخیل سے باہر ہو۔

وہ باپ غزہ تو پہنچ گیا، لیکن وہ اپنے بچوں تک نہیں پہنچ سکا۔

السيقلی نے اپنے سامنے ایک ایسا شہر پایا جس کے خدوخال بدل چکے تھےاور وہاں صرف ملبہ، خیمے اور بے گھر لوگ موجود تھے، جبکہ وہ یہ سوچ کر واپس آئے تھے کہ وہ پٹی میں لوٹیں گے اور سالوں کی جدائی کے بعد اپنے بچوں سے مل کر انہیں گلے لگائیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رہائی کے بعد دیکھی گئی تباہی کے حجم کا اندازہ نہیں لگایا تھا اور قید کے دوران وہ جو تصویریں دیکھتے تھے وہ پٹی پر گزرنے والی قیامت کی اصل حقیقت کو بیان کرنے سے قاصر تھیں۔

السيقلی خان يونس کے علاقے المواصی میں ایک خیمے کے اندر مقیم ہیں، وہ اپنے خاندان کے بچے ہوئے افراد کو سنبھالے ہوئے ہیں ، اپنے چھ بچوں کی الوداعی گھڑی کا انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ انہیں آخری بار گلے لگانے سے محروم کر دیا گیا تھا۔

وہ باپ اپنے بچوں کی تدفین کی تیاری اور ان کی ارواح کے لیے سورۃ فاتحہ پڑھنے کے لیے اپنی بقیہ طاقت جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ ان کی یہ دردناک داستان ہزاروں ایسے فلسطینی خاندانوں کی المیے کو عیاں کرتی ہے جن کے بچوں کو جنگ نے خیموں، ملبے اور قبروں میں بانٹ دیا ہے۔

احمد السيقلی قابض اسرائیل کی جیلوں میں تھکے ہوئے جسم اور اپنے بچوں کی جدائی سے نڈھال دل کے ساتھ غزہ لوٹے ہیں؛ وہ قید خانے سے تو باہر نکل آئے، لیکن انہوں نے خود کو چھ ایسے بچوں کی یاد کے قید خانے میں پایا جو اب کبھی گھر واپس نہیں آئیں گے، وہ ایک ایسے باپ کی داستان بن چکے ہیں جو جیل سے تو بچ نکلا مگر نامیاتی طور پر جدائی نامی ایک اور قید خانے کا اسیر ہو گیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan