Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجد اقصیٰ پر یہودی مذہبی تہوار کے چھٹے روز 1,195 آبادکاروں کی یلغار

مقبوضہ بیت المقدس (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی پولیس کے سخت حصار میں جمعرات کی صبح کے اوقات میں 1,195 یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصی کے صحنوں پر دھاوا بولا، جبکہ ان میں سے کئی افراد نے قبۃ الصخرہ کے سامنے قابض اسرائیل کا پرچم لہرایا، جو کہ یہودی عیدِ سُکوت کے دوران دھاووں میں مسلسل اضافے کا تسلسل ہے۔

بیت المقدس میں اسلامی اوقاف کے محکمے نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے بابِ المغاربہ کے راستے سے مسلسل گروہوں کی شکل میں مسجد پر دھاوا بولا، جس پر قابض حکام کا سنہ 1967ء سے غاصبانہ تسلط ہے۔ اس دوران ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پولیس اور مسلح اسپیشل فورسز کے اہلکار بڑی تعداد میں تعینات تھے۔

بیت المقدس گورنری نے جمعرات کے روز اپنے ایک جاری کردہ بیان میں بتایا کہ صبح کے دھاووں کے دوران یہودی آباد کاروں نے قبہ الصخرہ کے سامنے قابض اسرائیل کا پرچم لہرایا، جو مسجد کے صحنوں کے اندر اشتعال انگیز مظاہر اور اعلانیہ دینی رسومات میں اضافے کے مترادف ہے۔

آج کے یہ دھاوے جو عیدِ سُکوت کے چھٹے روز انجام پائے گذشتہ دنوں کے وسیع تر دھاووں کا تسلسل ہیں، جو نام نہاد ہیکل کی تنظیموں کی طرف سے شرکت بڑھانے کی اپیلوں اور قابض فورسز کی طرف سے فلسطینی نمازیوں کے داخلے پر عائد کردہ سخت پابندیوں کے ساتھ بیک وقت رونما ہو رہے ہیں۔

گذشتہ بدھ کو 2,468 یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصی پر دھاوا بولا اور اس کے صحنوں میں تلمودی رسومات ادا کیں، جبکہ قابض فورسز نے ان کے داخلے کو آسان بنایا اور نمازیوں کی آمد پر کڑی بندشیں لگائیں۔

اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق عید کے دوسرے روز 1,500 یہودی آباد کاروں نے دھاوا بولا، پھر تیسرے روز 1,731، اور چوتھے روز 1,462 افراد شامل رہے۔ ان دنوں کے دوران ہونے والی خلاف ورزیوں میں اجتماعی عبادتیں، جسے ’مہلک سجدہ‘ کہا جاتا ہے، زمین پر اوندھے منہ لیٹنا، نباتاتی قربانیاں لانا، اور صحنوں کے اندر تالیاں بجانا اور گیت گانا شامل تھا۔

اس طرح عید کے دوسرے روز سے لے کر چھٹے روز کے صبح کے وقت تک ریکارڈ کیے جانے والے کل دھاووں کی تعداد 8,356 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ روزانہ جاری ہونے والے اعداد و شمار کی بنیاد پر ہے۔

بیت المقدس گورنری نے گزشتہ روز بدھ کو یہ اعلان کیا تھا کہ رواں سال کے آغاز سے لے کر اب تک مسجد اقصی پر یہودی آباد کاروں کے دھاووں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 52,277 ہو چکی ہے اور اس نے روزانہ کے دھاووں کے تسلسل اور مسجد کے اندر اعلانیہ دینی رسومات میں تیزی سے اضافے کی طرف توجہ دلائی۔

ان پے در پے خلاف ورزیوں سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ تہواروں کے سیزن میں یہ کشیدگی صرف دھاوا بولنے والوں کی تعداد میں اضافے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں فلسطینیوں کی رسائی کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ اقصی کے اندر مذہبی رسومات اور اشتعال انگیز مظاہر کا دائرہ کار وسیع کرنا بھی شامل ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan