Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

’تاج‘ ٹاور کے ملبے سے برآمد 105 شہداء کی تدفین، غزہ کا المناک منظر تازہ

غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کے باسیوں نے شارع یرموک پر واقع ’تاج‘ رہائشی چوک کے ملبے سے طویل انتظار کے بعد نکالی گئی 105 شہداء کی میتوں اور باقیات کو سپرد خاک کردیا ۔ اس دوران دیگر خاندان اب بھی اپنے پیاروں تک رسائی کے منتظر ہیں، جبکہ بھاری مشینری کی قلت اور اسرائیلی پابندیاں تلاش اور ملبہ ہٹانے کے کام میں مسلسل رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

میتوں کی تدفین کی یہ تقریب بدھ کی شام تباہ شدہ مقام کے صحن میں شہری دفاع، مصری کمیٹی اور متاثرہ خاندانوں کے اتحاد کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ اس موقع پر طبی عملے اور امدادی رضاکاروں نے کفن اٹھائے اور انہیں ملبے کے قریب ترتیب دیا، جہاں لوگ اپنے رشتے داروں کا آخری دیدار کرنے کے لیے جمع ہوئے۔

شہری دفاع کے ادارے نے اعلان کیا کہ تاج چوک کے ہدف بنائے گئے علاقے میں تلاش کا کام مکمل کرنے سے پہلے، مصری کمیٹی کے تعاون سے شہداء کو نکالنے میں 17 دن کا کٹھن وقت لگا۔

شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے کہا کہ ملبے کے نیچے سے شہداء تک پہنچنے کے لیے طویل اور مشکل ترین کوششیں کرنا پڑیں۔ انہوں نے پٹی کے مکینوں کے تحفظ اور انہیں زندگی و سلامتی کا حق فراہم کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔

المناک سانحے کا اعادہ

دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے ایک پریس بیان میں کہا کہ یہ منظر ان خاندانوں کی تکلیف کے حجم کو دوبارہ عیاں کرتا ہے جو اپنے پیاروں کو سپردِ خاک کرنے کے لیے ان کی تلاش کے منتظر رہےاور اس نے غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف ڈھائے جانے والے نسل کشی کے جرائم پر گواہی دی ہے۔

حماس نے مزید کہا کہ ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری آلات اور مشینری کے داخلے پر لگائی جانے والی مسلسل پابندیاں ان خاندانوں کے دکھوں میں مزید اضافہ کر رہی ہیں جو اب تک اپنے بچوں اور عزیز و اقارب کے انجام سے بے خبر ہیں۔

حماس نے مطالبہ کیا کہ قابض دشمن پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ اسے مکانات کا ملبہ ہٹانے والی مشینری اور شہری دفاع کے عملے کو درکار بھاری ساز و سامان داخل کرنے کی اجازت دینے پر مجبور کیا جا سکے۔

حماس نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہریوں کے خلاف جرائم کے ذمہ دار اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف اپنی تحقیقات جاری رکھے اور ان کا پیچھا کرے، جبکہ دنیا بھر کی متعلقہ عدالتوں کو بھی چاہیے کہ وہ جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو کٹہرے میں لانے اور انہیں سزا سے بچنے سے روکنے کے لیے اپنے قانونی اختیارات بروئے کار لائیں۔

مسلسل جاری تلاش کا عمل

شہداء کو نکالنے کا یہ عمل شہداء کے اجساد کی بازیابی کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جو صہیونی بمباری سے تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے دبے شہداء تک پہنچنے کے لیے محدود آلات اور وسائل کے باوجود گذشتہ 19 جولائی کو شروع کیا گیا تھا۔

شہری دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق، دوسرے مرحلے کے منصوبے میں غزہ، شمالی غزہ اور وسطی گورنریوں کے 147 تباہ شدہ مکانات کا ملبہ ہٹا کر تلاش کرنا شامل ہے، جہاں یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ 1,072 لاشیں اب تک دبی ہوئی ہیں، اور یہ پروگرام 800 گھنٹے کا کام فراہم کرنے کے ہدف کے تحت چلایا جا رہا ہے۔

نومبر 2025ء کے آخر میں شروع ہونے والے پہلے مرحلے کے نتیجے میں، 54 گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے موجود سمجھے جانے والے 559 لاپتہ افراد میں سے تقریباً 333 لاشیں اور باقیات برآمد کی گئی تھیں۔ یہ اعداد و شمار صرف اس منصوبے میں شامل مقامات تک محدود ہیں اور پٹی میں کل لاپتہ افراد کی اصل تعداد کی عکاسی نہیں کرتے۔

ملنے والی لاشوں اور لاپتہ افراد کی تعداد کے درمیان یہ واضح فرق امدادی ٹیموں کو درپیش اس بڑے چیلنج کو بے نقاب کرتا ہے کہ کسی تباہ شدہ مقام تک پہنچ جانے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہاں تلاش کا کام مکمل کیا جا سکے، بالخصوص جب لاشیں ایسے ٹھوس کنکریٹ کے ڈھیروں کے نیچے ہوں جنہیں عام اور سادہ اوزاروں کی مدد سے ہٹایا نہ جا سکے گا۔

آلات کی کمی تلاش کے کام میں رکاوٹ

رکاوٹیں صرف بھاری ساز و سامان کی کمی تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس میں دستیاب مشینری کی کام کرنے کی صلاحیت میں کمی بھی شامل ہے، کیونکہ ملبہ ہٹانے کے یہ آلات اسپیئر پارٹس، انجن کے آئل اور ان کے آپریشن و دیکھ بھال کے لیے درکار مواد کی عدم دستیابی کی وجہ سے بار بار خراب ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے غزہ میں موجود ملبے کا تخمینہ تقریباً 61 ملین ٹن لگایا ہے، جو تباہی کے حجم اور اس سے نمٹنے کے لیے دستیاب وسائل کے درمیان موجود وسیع خلیج کو واضح کرتا ہے۔

ملبے کو ہٹانے کا اکثر کام ہاتھوں سے ہی کیا جاتا ہے۔ فلسطین میں اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب سے 16 ستمبر کو جاری کردہ ایک بریفنگ میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر ’فولكر تورك‘ نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ قابض حکام ملبہ ہٹانے کے لیے درکار بھاری مشینری کے داخلے پر مسلسل پابندی عائد کیے ہوئے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan