مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مسجد اقصی پر قابض اسرائیل کے بار بار دھاووں، اس کے تقدس اور دینی و تاریخی مقام کے خلاف اشتعال انگیز حرکات اور جنوبی لبنان اور غزہ کی پٹی کے کچھ حصوں کے الحاق سے متعلق اسرائیلی بیانات میں اضافے کے تناظر میں عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔
عرب ممالک اور تنظیم تعاون اسلامی نے ان اقدامات کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا ہے اور خطے پر اس کے اثرات نیز مسجد اقصی اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو نقصان پہنچانے کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔
کویت: بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی
کویت نے اس بات پر اظہارِ تشویش اور مذمت کی ہے کہ قابض اسرائیلی حکام اور یہودی آباد کار قابض فورسز کی سیکیورٹی میں مسلسل مسجد اقصی پر دھاوے بول رہے ہیں۔
کویت نے ان حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کے ساتھ کھلا اشتعال ہیں۔
اس کے ساتھ ہی کویت نے جنوبی لبنان اور غزہ کی پٹی کے حصوں کے الحاق سے متعلق اسرائیلی بیانات کی بھی شدید مذمت کی ہے، فلسطینی کاز نیز چار جون سنہ 1967ء کی سرحدوں کے اندر ایک آزاد ریاست قائم کرنے کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا ہے جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو۔
اسرائیلی توسیع پسندی مسترد :سعودی عرب
دوسری جانب مملکت سعودی عرب نے قابض اسرائیلی حکام اور یہودی آباد کاروں کی جانب سے قابض فورسز کی سکیورٹی میں مسجد اقصی کے تقدس کے خلاف اشتعال انگیز حرکات کے سلسلے کو جاری رکھنے کی شدید مذمت کی ہے، اور بین الاقوامی قانون کی ان خلاف ورزیوں کو مسترد کرنے کے مؤقف کو دہرایا ہے۔
سعودی عرب نے جنوبی لبنان کے علاقوں اور غزہ کی پٹی میں زرد لکیر تک پھیلنے والے علاقوں کے الحاق سے متعلق اسرائیلی بیانات کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے اور کسی بھی اسرائیلی توسیع پسندانہ کوشش کو مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ سنہ 1967ء کی سرحدوں پر مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد ریاست کے قیام کے فلسطینی حق پر اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
مصر کی جانب سے کشیدگی کے اثرات پر انتباہ
ادھر مصری وزارتِ خارجہ نے غربِ اردن میں اسرائیلی کشیدگی، اسرائیلی پولیس کی سیکیورٹی میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصی کے دھاووں، اور فلسطینی شہریوں کی نقل و حرکت پر عائد کی جانے والی سخت پابندیوں اور اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔
قاہرہ نے قابض اسرائیل کی جاری کردہ کشیدگی اور فلسطینیوں نیز ان کے مقدسات کو نشانہ بنانے والے زمینی اقدامات کے تناظر میں فلسطینی سرزمین پر ان کارروائیوں کے خطرناک اثرات سے خبردار کیا ہے۔
قطر اور اردن کی جانب سے مسجد اقصی کے دھاووں کی مذمت
قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی یہودی آباد کاروں کے مسجد اقصی پر تسلسل کے ساتھ بولے جانے والے دھاووں کی شدید مذمت کی ہے، اسے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کے خلاف ناقابلِ قبول اشتعال قرار دیا ہے۔
اردنی وزارتِ خارجہ نے قابض اسرائیلی پولیس کی سیکیورٹی میں اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر اور یہودی آباد کاروں کے جتھوں کی جانب سے مسجد اقصی پر کیے جانے والے دھاوے کی شدید مذمت کی ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم کا مذہبی جنگ کے خطرے سے انتباہ
اسی سلسلے میں تنظیم تعاون اسلامی کے سیکرٹریٹ جنرل نے قابض اسرائیلی حکومت کے انتہا پسندوں کی طرف سے مسجد اقصی کے صحنوں میں گھسنے اور قابض فورسز کی سیکیورٹی میں یہودی آباد کاروں کے مسلسل دھاووں اور اس کے اندر اشتعال انگیز رسومات ادا کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔
تنظیم نے ان اقدامات کو مسجد اقصی کے تقدس پر حملہ اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکانے کے مترادف قرار دیا ہے۔
’او آئی سی‘نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کو مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے مقدسات سمیت سنہ 1967ء سے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر کوئی حاکمیت حاصل نہیں ہے، اور اس نے بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں کے نتائج اور مذہبی کشمکش کو ہوا دینے کے خطرناک مضمرات سے خبردار کیا۔
تنظیم نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو رکوانے اور مقدس مقامات کی موجودہ تاریخی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر عملی اقدامات کرے۔
عرب اور اسلامی دنیا کی یہ آراء ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب مسجد اقصی پر اسرائیلی دھاوے مسلسل جاری ہیں، ساتھ ہی وہ بیانات بھی دیے جا رہے ہیں جن میں فلسطینی سرزمین اور جنوبی لبنان کے اندر اسرائیلی تسلط اور الحاق کو وسعت دینے کی باتیں کی جا رہی ہیں، جس نے باضابطہ مذمت اور علاقائی امن و استحکام پر مرتب ہونے والے اثرات کے حوالے سے گہری تشویش کو جنم دیا ہے۔
