Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

غزہ پر پالیسی سے متعلق برطانیہ کا اعتراف، اسرائیل کے خلاف مؤقف سخت کرنے کا عزم

لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگ پر لیبر پارٹی کے موقف کے ناقدین حق پر تھے ۔ اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی کاز کے حوالے سے پارٹی کا لائحہ عمل ناکافی تھا، نیز انہوں نے قابض اسرائیل اور یہودی آباد کاروں کے خلاف مزید سخت اور فیصلہ کن اقدامات اٹھانے کا عہد کیا۔

اخبار دی گارڈین نے بتایا ہے کہ ملی بینڈ برطانوی لیبر پارٹی کی کانفرنس سے اپنے خطاب کے دوران اس بات کی تأکید کریں گے کہ پارٹی نے اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے اپنے لائحہ عمل کو از سر نو ترتیب دے دیا ہے، جو برطانوی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی ہے۔

“آپ حق پر تھے”

اخبار کے مطابق ملی بینڈ ان کارکنان اور لیبر پارٹی کے اراکین کو پیغام دیں گے جنہوں نے فلسطینیوں کا مسئلہ اٹھایا تھا، اور وہ کہیں گے۔ “ہم آپ کو سن رہے ہیں، اور آپ حق پر تھے”، جو اس تنقید کی طرف اشارہ ہے جو غزہ کی جنگ پر پارٹی کے موقف پر کی گئی تھی۔

وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ برطانوی حکومت یہودی آباد کاروں کی سرگرمیوں کے خلاف اقدامات اٹھا کر لاکھوں افراد کے مطالبات کا مثبت جواب دے رہی ہے، اور انہوں نے اشارہ کیا کہ لیبر پارٹی وزیراعظم اینڈی برہم کی قیادت میں خارجہ پالیسی میں مزید واضح موقف اختیار کرے گی۔

ملی بینڈ نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے معاملے سے ایک “بنیادی اور وسیع تر سبق” ملتا ہے کہ بطور ایک پارٹی ہمیں اپنا لائحہ عمل کیسے تبدیل کرنا چاہیے، اور انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پارٹی ان اقدار کے مطابق کام کرے گی جنہیں انہوں نے “ترقی پسند اقدار” قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہاکہ “ہم یہاں موجودہ صورتحال کو قبول کرنے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ اندرون و بیرون ملک اسے تبدیل کرنے کے لیے ہیں”، جسے برطانوی خارجہ پالیسی کے ایک زیادہ سخت دور کے آغاز کے طور پر دیکھا گیا۔

آبادکاری کی سرگرمیوں پر پابندیاں

“دی گارڈین” نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ لیبر پارٹی کی کانفرنس حزب اختلاف میں پارٹی کے آخری سال کے دوران اور حکومت سنبھالنے کے ابتدائی دور میں بھی، سابق وزیراعظم کیر سٹارمر کے اسرائیل اور فلسطین سے متعلق موقف کی وسیع پیمانے پر مخالفت کا میدان بنی رہی۔

وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے، ملی بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے پیش نظر اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر وسیع پابندیوں کا اعلان کیا، جب کہ فرانس اور کینیڈا سمیت 12 ممالک نے ایسے ہی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

ملی بینڈ نے ان پابندیوں کو اس طریقے میں “فیصلہ کن تبدیلی” سے تعبیر کیا جس کے ذریعے لیبر پارٹی مشرق وسطیٰ کی صورتحال سے نمٹ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی حکومت نے “اپنے لائحہ عمل کو از سر نو ترتیب دے دیا ہے”، اور وہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی طرف سے کی جانے والی نسلی تطہیر، غزہ میں جنگی جرائم کے شواہد، اور فلسطین پر قابض اسرائیل کے قبضے کی مذمت کرتی ہے۔

آبادکاری کی درآمدات پر پابندی

یہ طے پایا ہے کہ ملی بینڈ اس بات کا اعلان کریں گے کہ برطانیہ غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والے سامان کی درآمد پر پابندی عائد کر دے گا، اس کے ساتھ ساتھ اس سے منسلک برطانوی مالیاتی اور خدماتی ذرائع کو تعطیل کرنے کے لیے بھی کام کیا جائے گا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ برطانوی حکومت اس عمل کی ہرگز اجازت نہیں دے گی جسے انہوں نے “دو ریاستی حل کی تباہی” قرار دیا۔

برطانوی وزیر خارجہ غزہ کے خلاف اسرائیلی جنگ کے خلاف احتجاج کرنے والے کارکنان کی طرف سے منظم کی جانے والی مہمات کو بھی خراج تحسین پیش کریں گے، ایسے وقت میں جب حکومت کو پارٹی کانفرنس ہال کے باہر پولیس کی طرف سے متعدد مظاہرین کی گرفتاری کے بعد تنظیم “فلسطین ایکشن” پر پابندی کے حوالے سے اپنے موقف پر سوالات کا سامنا ہے۔

ملی بینڈ نے کہا کہ برطانوی عوام اور اسرائیل و فلسطین میں امن کے متلاشی افراد کے درمیان یکجہتی کے رشتے “اتنے مضبوط ہیں کہ انہیں توڑا نہیں جا سکتا”، انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کے اس اقدام نے دوسرے ممالک کو بھی ایسے ہی اقدامات اٹھانے کے لیے متحرک کیا ہے۔

نئے اتحادوں کی طرف رجحان

برطانوی خارجہ پالیسی کے ایک وسیع تناظر میں، ملی بینڈ نے فرانس اور کینیڈا جیسے ممالک کے ساتھ تعاون کو “ہم خیالات ممالک” کے ساتھ نئے تعلقات استوار کرنے کے رجحان کے ایک حصے کے طور پر پیش کیا۔

“دی گارڈین” نے ملی بینڈ کے ایک قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ رجحان ان کے دور وزارت کا ایک بنیادی محور ہوگا، اور انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ بڑے عالمی مسائل پر اتحاد بنانے کی برطانیہ کی صلاحیت اس بات پر منحصر ہے کہ وہ دوسرے ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ طے ہے کہ ملی بینڈ اس بات پر زور دے کر اپنے پیغام کا اختتام کریں گے کہ اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے برطانوی لائحہ عمل کی از سر نو ترتیب اس طریقے کا ایک نمونہ پیش کرتی ہے جس کے تحت حکومت کام کرنا چاہتی ہے، اور وہ ان امور پر اپنے موقف کے پیچھے دوسرے ممالک کو اکٹھا کرنے کی خواہاں ہے جنہیں وہ اہمیت کی حامل سمجھتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan