Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

مسجد اقصیٰ میں مذہبی آزادی پر قدغن، اذانِ عشاء متاثر

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) پیر کی شام آٹھ بجے جب مقبوضہ بیت المقدس اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں ’یومِ یادگار‘ کے آغاز پر سائرن بجائے گئے، جس میں صہیونی اپنی جارحانہ جنگوں میں مارے جانے والے اپنے فوجیوں کا جشن مناتے ہیں، تو عین اسی لمحے مسجد اقصیٰ کے مینار خاموش ہو گئے۔ عشاء کی اذان کی صدائیں فضا میں بلند نہ ہو سکیں اور مسجد کے صحنوں میں موجود نمازیوں اور اس کے پڑوسیوں نے اسے نہیں سنا۔

قابض اسرائیل ہر سال البراق پلازہ میں اس موقع پر مرکزی تقریب منعقد کرتا ہے۔ اس سے قبل بھی قابض دشمن مسجد اقصیٰ میں گھس کر اس کا ساؤنڈ سسٹم بند کر چکا ہے تاکہ ان تقریبات کے دوران اذان کی آواز کو روکا جا سکے۔

یہ اقدام مسجد اقصیٰ پر قابض اسرائیل کی بڑھتی ہوئی سفاکیت اور غلبے کی ایک اور المناک تصویر ہے جو روز بروز گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ قابض دشمن کی یہ کوشش اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ وہ اردنی اوقاف کے کردار کو صرف اس حد تک محدود کرنا چاہتا ہے کہ جب قابض ریاست اجازت دے تو وہ صرف ایک رسمی اسلامی موجودگی کا انتظام سنبھالے، حالانکہ اردنی اوقاف ہی وہ واحد اسلامی انتظامیہ ہے جسے مسجد اقصیٰ کے تمام امور چلانے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

قدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے اس سے قبل بارہا اردن کی سرکاری سطح پر ایسی پالیسی وضع کرنے پر زور دیا ہے جو مسجد اقصیٰ پر لاحق اس وجودی خطرے کا بھرپور مقابلہ کر سکے، اور حال ہی میں اس سلسلے میں 14 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کو یادداشتیں بھی ارسال کی گئی ہیں۔ تاہم، آج کے حالات میں مقبوضہ بیت المقدس اور اندرونِ فلسطین میں عوامی سطح پر جاری رباط اور عملی جدوجہد ہی وہ اہم ترین عنصر ہے جو مسجد اقصیٰ کی شناخت کے دفاع میں سب سے آگے کھڑا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan