دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے رہنما محمود مرداوی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیل کی جانب سے مکانات کی مسماری، چھاپوں اور فلسطینیوں کے خلاف بہیمانہ تشدد و تذلیل پر مبنی کارروائیوں میں حالیہ اضافہ دراصل ایک ایسی سفاکانہ پالیسی کا عکاس ہے جس کا مقصد مقامی آبادی کا مکمل صفایا کرنا، انہیں زبردستی بے دخل کرنا اور شہر کی آبادیاتی صورتحال کو بدل کر ایک نیا غاصبانہ ڈھانچہ مسلط کرنا ہے۔
محمود مرداوی نے 27 اپریل سنہ 2026ء بروز پیر اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ قلندیہ کیمپ، الرام، کفر عقب، العیساویہ اور سلوان جیسے علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک ایسی منظم پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی اپنی آبائی زمین سے بیدخل کرنا اور ان کے گرد زندگی کا گھیرا تنگ کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کے باسیوں کو نشانہ بنانا اور مقدس مقامات بالخصوص مسجد اقصیٰ پر حملے کرنا اس وسیع تر سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد شہر کو یہودیانا اور اس کے تاریخی و اسلامی خدوخال کو تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں جاری مسلسل کشیدگی اور قابض دشمن کے جارحانہ عزائم کے سنگین نتائج سے بھی خبردار کیا۔
محمود مرداوی نے واشگاف الفاظ میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ قابض اسرائیل اور صہیونی آباد کاروں کی جانب سے قتل و غارت گری، گرفتاریوں اور تشدد جیسی وحشیانہ کارروائیاں فلسطینیوں کے عزم و استقلال کو توڑنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی اور نہ ہی انہیں اپنے حقوق سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے گا۔ انہوں نے تاکید کی کہ فلسطینی عوام کی بے مثال ثابت قدمی ہی الحاق اور جبری بے دخلی کے مذموم صہیونی منصوبوں کے سامنے ایک ناقابل تسخیر حفاظتی ڈھال ثابت ہو گی۔
انہوں نے ان سفاکانہ پالیسیوں کے سامنے مقبوضہ بیت المقدس کے باسیوں کی ہمت و استقامت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور عالمی برادری سے ان کی ہر ممکن مالی و اخلاقی مدد کی اپیل کی تاکہ شہر میں ان کے وجود کو مستحکم کیا جا سکے اور غاصب دشمن کے ناپاک منصوبوں کو خاک میں ملایا جا سکے۔
