مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے کہا ہے کہ قابض صہیونی حکام کی طرف سے منگل کی صبح مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قصبہ کفر عقب میں اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے فلاحی ادارے ’انروا‘ کے کمپلیکس پر غاصبانہ قبضہ ہمارے فلسطینی عوام کے خلاف جاری منظم جارحیت کا تسلسل، ایک بین الاقوامی ادارے پر صریح حملہ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی مواثيق کا سفاکانہ چیلنج ہے۔
’حماس‘ نے منگل کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی اور امتی سطح پر جاری بے بسی اور ان بار بار ہونے والی صہیونی کارروائیوں پر کسی حقیقی ردعمل کا فقدان جو کہ بین الاقوامی نظام سے حقارت پر مبنی ہیں، وہی چیز ہے جو قابض صہیونی ریاست کو اپنی جارحیت کو بڑھانے اور طاقت کے بل بوتے پر امرِ واقعہ مسلط کرنے پر دلیر بناتی ہے اور اسے بین الاقوامی مواثیق اور روایات کی پامالیوں کو جاری رکھنے کے لیے کور فراہم کرتی ہے۔
’حماس‘ نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پامالیوں کو روکنے کے لیے فوری طور پر حرکت میں آئیں، صہیونی ریاست کے خلاف تادیبی اور روکاوت ڈالنے والے اقدامات کریں اور ’انروا‘ کے تحفظ اور اسے اس کا کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، اس حیثیت سے کہ یہ ادارہ ہمارے فلسطینی عوام کے مہاجرین کے مسئلے اور صھیونی غنڈوں کے ہاتھوں زبردستی بے دخل کیے جانے والے اپنے گھروں کو واپس جانے کے ان کے ناقابلِ تنسیخ حق پر ایک بین الاقوامی گواہ ہے۔
قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزیر قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر نے ادارے کے صدر دفاتر پر دھاوے کی قیادت کی اور اس کے بعد ایسے بیانات دیے جنہیں بیت المقدس اور اسرائیل میں ’انروا‘ کے کسی بھی وجود کے انکار کے مترادف سمجھا گیا اور جو امتی ادارے کے خلاف منظم سیاسی اشتعال اور یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے کی کوشش کا تسلسل ہیں۔
انروا کی طرف سے تفصیلات کا انکشاف
اس سے پہلے اقوام متحدہ کے فلسطینی پناہ گزینوں کے امدادی اور فلاحی ادارے ’انروا‘ نے کہا کہ “اسرائیلی فورسز تقریباً پچاس سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ کم از کم چار بکتر بند گاڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے صبح تقریباً دس بجے قلندیا ٹریننگ سینٹر میں زبردستی گھس گئیں جبکہ اس وقت تقریباً بیس انروا ملازمین مقام پر موجود تھے۔”
’انروا‘ نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں مزید کہا کہ دھاوے کے بعد اسرائیلی عہدیداروں نے عوامی بیانات دیے جن میں اشارہ کیا گیا کہ اسرائیلی حکام نے عمارت پر غاصبانہ قبضہ کر لیا ہے۔
’انروا‘ نے قلندیا ٹریننگ سینٹر میں اس چیز کی غیر مبہم انداز میں مذمت کی جسے اس نے “غیر مجاز اور انتہائی تشویشناک گھس پٹھ” قرار دیا، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ “اس کی اجازت یا منظوری کے بغیر مسلح سکیورٹی فورسز کا اقوام متحدہ کے ادارے میں داخل ہونا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔”
القدس گورنری نے کیا ردعمل ظاہر کیا؟
دوسری طرف القدس گورنری نے قابض اسرائیل کی طرف سے منگل کے روز مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ اور قصبہ کفر عقب میں کیے جانے والے اقدام کی خطرناک نوعیت سے خبردار کیا، یہ مانتے ہوئے کہ اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے امدادی ادارے ’انروا‘ سے وابستہ قلندیا ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کو خالی کرانا، اس کے ملازمین کو نکال باہر کرنا اور اس کے کمپلیکس پر کنٹرول مسلط کرنے کے اقدامات کا آغاز کرنا مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی وجود اور بین الاقوامی اداروں کو نشانہ بنانے والے ایک اسرائیلی منصوبے کی ایک نئی کڑی کی تشکیل کرتا ہے جو زمین پر ایک نئے واقعے کو مسلط کرنے اور اسے قابض حکام کے زیرِ کنٹرول پراجیکٹس کے لیے دوبارہ مختص کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔
القدس گورنری نے واضح کیا کہ قابض فورسز نے صبح کے اوقات سے ہی قلندیا کیمپ اور قصبہ کفر عقب پر دھاوا بول دیا، بڑی تعداد میں فوجیوں اور جنگی گاڑیوں کو اس علاقے میں دھکیل دیا، انسٹی ٹیوٹ کے اردگرد کے راستوں کو بند کر دیا اور ہزاروں شہریوں کی نقل و حرکت کو روک دیا، جبکہ اس کے حصوں اور کمروں پر دھاوا بولا، اس کے مندرجات کی تلاشی لی اور اس کے صحنوں میں پھیل گئے، اس سے پہلے کہ وہاں کام کرنے والوں کو خالی کرایا جائے اور انہیں مطلع کیا جائے کہ وہ اس میں واپس نہ آئیں۔
اس نے مزید کہا کہ قابض فورسز نے انسٹی ٹیوٹ کے اندر موجود تقریباً چالیس ملازمین اور افراد کو یرغمال بنایا اور انہیں تفتیش کا نشانہ بنایا، قلندیا کیمپ کے داخلی راستے پر دو نوجوانوں کو گرفتار کیا، اور کفر عقب میں دیوارِ فاصل کے قریب قبضے کے نوٹس تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ انسٹی ٹیوٹ کے صحن کے اندر قبضے کا جھنڈا بلند کیا۔
نام نہاد اسرائیلی وزیرِ قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر نے مقام پر دھاوے میں شرکت کی اور وہیں سے اعلان کیا کہ قابض حکام نے اس چیز کا آغاز کر دیا ہے جسے اس نے “عمارت کو خالی کرانے کا آپریشن” کہا ہے، جو کہ ایک ایسا قدم ہے جو اقوام متحدہ کے ادارے پر اسرائیلی کارروائیوں کے دھاووں اور تنگ کرنے سے آگے بڑھ کر انخلاء اور میدانی کنٹرول مسلط کرنے کی طرف منتقلی کی عکاسی کرتا ہے۔
القدس گورنری نے اس بات کی تصدیق کی کہ قلندیا ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اقوام متحدہ کا ایک ادارہ ہے جسے انروا نے سنہ 1952ء میں قائم کیا تھا، اور یہ ادارے کے قدیم ترین ٹریننگ سینٹرز میں سے ایک ہے، اور اسے اس زمین پر قائم کیا گیا تھا جو اردن کی حکومت نے سولہ اکتوبر سنہ 1952ء کو طے پانے والے ایک معاہدے کے تحت فلسطینی پناہ گزینوں کو تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کے واضح اور معین مقصد کے لیے انروا کو دی تھی۔
یہ مرکز سالانہ سینکڑوں فلسطینی نوجوانوں کو خدمات فراہم کرتا ہے، اور متعدد پیشہ ورانہ اور تکنیکی پروگرام اور تخصصات پیش کرتا ہے، اور فلسطینی پناہ گزینوں کو تربیت اور اہلیت کے مواقع فراہم کرتا ہے جو انہیں پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل کرنے، لیبر مارکیٹ میں ضم ہونے اور اقتصادی خود مختاری کا زیادہ سے زیادہ درجے حاصل کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
مرکز کا کمپلیکس تقریباً اسّی دونم رقبے پر پھیلا ہوا ہے، اور اس میں ٹریننگ کی ورکشاپس، کلاس رومز، انتظامی سہولیات، رہائش گاہیں اور خدماتی تنصیبات شامل ہیں، اور اس میں موجود اثاثوں کی مالیت لاکھوں ڈالر کی ہے؛ جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ “کسی عمارت کو خالی کرانے” کی بات اس چیز کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی جو ہو رہی ہے، کیونکہ اصل میں جو ہدف ہے وہ ایک مربوط امیدی کمپلیکس اور مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں ایک سٹریٹجک مقام پر ایک وسیع زمین ہے۔
