Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں مساجد کی تباہی کا سلسلہ جاری، ابوسلیم مسجد بھی ملبے میں تبدیل

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ سفاکانہ جنگ اب محض گھروں اور پختہ عمارات کے سینے چیرنے تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے ان مقدس آستانوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جو دہائیوں سے اس ارضِ مقدس کے شہروں اور بستیوں کے دل کی دھڑکن اور اجتماعی یادداشت کا امین تھے۔ دیرالبلح کا تاریخی خطہ جو کبھی ایمان و اذان کی گونج سے آباد تھا، اب اس المناک سلسلے کی تازہ ترین قربانی بن چکا ہے؛ جہاں غاصب صہیونی دشمن کے جنگی طیاروں نے تریسٹھ سال پرانی تاریخی “ابو سلیم” مسجد کو زمین بوس کر کے خاک کے ڈھیر میں بدل ڈالا ہے۔

سنہ 1951ء کی بہار میں تعمیر ہونے والی یہ مسجد محض گارے اور پتھر کا ڈھانچہ نہ تھی بلکہ دیرالبلح اور وسطی خطے کے باسیوں کے لیے روحانی سکون، محبت اور اخوت کا گہرا استعارہ تھی۔ اسے الحاج محمد ابو سلیم نے اس خطے کے پہلے نورانی چراغوں میں سے ایک کے طور پر روشن کیا تھا، جو وقت کے سفر کے ساتھ اس بستی کا دھڑکتا ہوا دل بن گئی۔ یہاں بچوں کی زبانوں سے کلامِ پاک کی روح پرور تلاوتیں گونجتی تھیں، دینی اور سماجی محفلیں سجتی تھیں اور اس کے آنگن نے نسل در نسل اس شہر کے باسیوں کے دکھ سکھ، غم اور خوشیوں کے انمٹ مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

آج اس عظیم الشان مسجد مینار کے گرنے سے دیرالبلح کے باسی اپنے ماضی کے اس باب سے محروم ہو چکے ہیں جو ان کے اجداد کی یادوں سے پیوند تھا۔ تنہا ابوسلیم ہی نہیں، بلکہ اس نگری کی سیکڑوں مساجد اور مصلیٰ جات بھی اسی دردناک انجام سے دوچار ہیں، کہیں پوری عمارت بارود کا ڈھیر بن چکی ہے، تو کہیں مسمار دیواریں اور ٹوٹے سجدہ گاہیں اپنے وارثوں کی دید کو ترستے ہیں۔

مساجد اور خدماتی مراکز پر سفاکانہ وار

وزارتِ اوقاف اور مذہبی امور غزہ کے مطابق “ابو سلیم” مسجد پر یہ قیامت خیز حملہ عین اسی وقت برپا ہوا جب غزہ شہر کے شمال میں واقع الشاطی کیمپ کی تاریخی “عسقلان” مسجد کے مصلیٰ کو بھی بمباری کا نشانہ بنا کر خاکستر کر دیا گیا، جس سے اس مقدس تاریخی عمارت کو بھی کاری زخم لگے۔

وزارت اوقاف نے درد بھرے لہجے میں بتایا کہ اس سفاکیت کا نشانہ صرف مساجد تک محدود نہیں رہا بلکہ الشیخ رضوان کی زکوٰۃ کمیٹی کے زیرِ انتظام پینے کے پانی کا قیمتی پلانٹ اور “السلام” مارکیٹ بھی اس ہلاکت خیز بمباری کی نذر ہو کر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، جبکہ شہر کے مغربی حصے میں واقع “الرضوان” مسجد کا مصلیٰ بھی اس وحشت کی لہر میں شدید زخمی ہوا ہے۔

وزارت نے ان حملوں کو براہِ راست عبادت گاہوں اور فلسطینی معاشرے کی روح پر ایک ظالمانہ حملہ قرار دیا ہے۔ قابض صہیونی درندوں کو اس تمام تر تباہی کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے، عالمی ضمیر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس خاموشی کو توڑیں اور ان جنگی مجرموں کو عالمی عدالتوں کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔

وزارت کے دل دہلا دینے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس مسلسل نسل کشی اور جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ کی کل 1275 مساجد میں سے 1244 مساجد کو وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن میں سے 1077 مساجد مکمل طور پر نیست و نابود ہو چکی ہیں۔

خیموں اور ترپالوں کے سائے میں سجدے

غزہ کے مکینوں کا المیہ صرف چھتوں کا چھن جانا نہیں ہے، بلکہ ان کی روح پر سب سے بڑا وار ربِ کائنات کے حضور سجدہ ریز ہونے کے مقامات کا چھن جانا ہے۔ وزارتِ اوقاف اور مذہبی امور کے ڈائریکٹر جنرل، امیر ابو العمرين، اشک بار دل کے ساتھ بتاتے ہیں کہ اس دشمن نے دینی زندگی کے ہر اس نقش کو مٹانے کی قسم کھا رکھی ہے جو انسان اور خدا کے درمیان تعلق کا ضامن تھا؛ مساجد، مقابر اور عبادت گاہیں سب اس سفاکیت کا ہدف بن چکی ہیں۔

آج عالم یہ ہے کہ اس طوفانِ بلاخیز کے بعد پورے خطے میں صرف 224 مساجد اپنی اصل حالت میں کھڑی ہیں، جن کے ساتھ 428 عارضی مصلیٰ جات کسی طرح سانس لے رہے ہیں، یوں کُل ملا کر 652 ایسے مقامات باقی بچے ہیں جہاں بکھرے ہوئے لوگ خدا کے حضور ماتھا ٹیک سکتے ہیں۔

اس ویرانی میں امید کا ایک ہی چراغ روشن ہے؛ وزارت نے اپنے انتہائی محدود اور شکستہ وسائل کے باوجود، لکڑی کے تختوں اور سستی ترپالوں کی مدد سے 65 مساجد کو کسی حد تک اس قابل بنایا ہے کہ وہاں سر جھکائے جا سکیں، جبکہ 142 مساجد آج بھی مرمت اور بحالی کے انتظار میں اپنے مکینوں کو پکار رہی ہیں۔

ملبے کے ڈھیر پر سجدہ ریز عزمِ صمیم

جہاں بستیوں کی بستیاں اجڑ چکی ہوں، وہاں عارضی مصلیٰ جات ان بے گھر اور مظلوم انسانوں کے لیے آخری پناہ گاہ بن جاتے ہیں، بالخصوص ان پناہ گزین کیمپوں میں جہاں انسانیت تپتی ہوئی ریت پر سسک رہی ہے۔ ابو العمرين اس تلخ حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ اس وقت پٹی کو فوری طور پر کم از کم 100 عارضی مصلیٰ جات کی سخت ضرورت ہے، جبکہ پہلے سے موجود 70 سے 80 مصلیٰ جات بھی بمباری اور آسمانی آفتوں کی زد میں آ کر تباہ ہو چکے ہیں۔

وزارتِ اوقاف کے مخلص کارکن دن رات ایک کیے ہوئے ہیں کہ کسی طرح ان شکستہ مصلیٰ جات کے دائرے کو وسیع کیا جا سکے، مگر زخم اتنے گہرے اور وسائل اتنے ناپید ہیں کہ یہ کوششیں سمندر میں قطرے کے مترادف ہیں۔ اب ضرورتیں صرف مٹی اور گارے کی نہیں رہیں، بلکہ خدا کے ان گھروں کو قرآن مجید کے نسخوں، صفائی کے سامان، اور معمولی خیموں کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ رب کے ذکر کا چراغ مدہم نہ پڑے۔

راکھ اور ملبے کے تلے دبی ہوئی تاریخ

“ابو سلیم” مسجد کا خاتمے کا صدمہ محض ایک عمارت کا گرنا نہیں ہے، یہ دیرالبلح کی اس تین چوتھائی صدی پر محیط تہذیب کا قتل ہے جس نے ان گنت نسلوں کے بچپن، جوانی اور بڑھاپے کو اپنی آغوش میں پرورش دی تھی۔

آج جب اس کھنڈر بن چکی زمین پر تعمیرِ نو کی طویل داستان نظر آتی ہے، تو گھروں، سکولوں اور ہسپتالوں کے ساتھ مساجد کو دوبارہ اٹھانا ایک ایسا کٹھن پہاڑ لگتا ہے جسے سر کرنا صبرِ ایوب کا متقاضی ہے۔ مگر اس معجزاتی سحر سے پہلے بھی، ان سجدہ گاہوں کے بقا کی جنگ جاری ہے۔ جب تک یہ پتھر بولتے ہیں، ہزاروں بے گھر فلسطینی آسمان تلے، لکڑیوں اور ترپالوں کے عارضی سائبانوں کے نیچے اپنے خون آلود ہاتھوں کو اٹھا کر ربِ ذوالجلال سے اپنے حق اور استقامت کی فریاد کر رہے ہیں۔

ایک طرف زمینی آگ میں جل کر راکھ ہوتی ہوئی تاریخی مساجد، اور دوسری طرف بے یارومددگار سجدہ گزاروں کے یہ عارضی آستانے؛ یہی آج کے مظلوم غزہ کی اصل تصویر ہے۔ ایک ایسی جنگ جس نے کسی شے کو معصوم یا مقدس نہیں رہنے دیا، اور پیچھے چھوڑ گئی ہے صرف ملبے کے وہ انبار جو تاریخ کے صفحات پر خون سے لکھے جانے والے انصاف کے منتظر ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan