غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی افواج نے منگل کے روز بھی غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ، توپ خانے سے گولہ باری اور عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیل کی گاڑیوں نے غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں میں شدید فائرنگ کی، جس کے ساتھ ہی توپ خانے سے گولہ باری کی گئی اور شہر کی فضا میں ڈرون طیاروں نے نچلی پروازیں کیں۔
اس کے علاوہ قابض اسرائیل کی افواج نے خان یونس کے مشرق میں واقع بنی سہیلہ چوک کے قریب صلاح الدین روڈ کے نزدیک دھوئیں کے گولے پھینکے اور شدید فائرنگ کی۔
غزہ شہر میں، شہر کے مغربی اور مشرقی حصوں میں قابض اسرائیل کے ہیلی کاپٹروں کی نچلی پروازیں دیکھی گئیں، جس کے باعث مقامی رہائشیوں میں شدید کشیدگی اور خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں، قابض اسرائیل کی گاڑیوں نے وسطی غزہ میں بریج کیمپ کے شمال میں وادی غزہ پل کے آس پاس کے علاقوں میں فائرنگ کی۔ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
یاد رہے کہ پیر کے روز قابض اسرائیل کی افواج نے وسطی غزہ کی پٹی کے قصبے الزوائدہ میں رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو بچوں سمیت پانچ شہری شہید ہو گئے۔ یہ واقعہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے تسلسل میں پیش آیا۔
قابض اسرائیل کی افواج جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتے ہوئے بے گھر افراد کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے گولہ باری کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد یلو لائن کے اندر عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہ کرنے کا عمل جاری ہے، جبکہ اشیاء خوردونوش، امدادی سامان اور نقل و حرکت پر عائد سختیاں بھی برقرار ہیں۔
وزارت صحت فلسطین کے اعداد و شمار کے مطابق، دس اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے آغاز سے اب تک شہداء کی تعداد 995 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 3144 افراد زخمی ہوئے ہیں، اور اب تک 784 لاشیں ملبے سے نکالی گئی ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی جارحیت کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 73,006 فلسطینی شہید اور 173,252 زخمی ہو چکے ہیں، جو کہ غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی جاری جارحیت کی بھاری انسانی قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
