غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انسانی حقوق کی تنظیم ’ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ نے انتباہ دیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ہزاروں افراد موت اور سنگین بیماریوں کے دہانے پر کھڑے ہیں، کیونکہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے انجن آئل اور مشینری کے پرزہ جات کی غزہ آمد پر سخت پابندیاں مسلسل جاری ہیں۔
تنظیم نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ یہ سامان ہسپتالوں کے جنریٹرز، ایمبولینسوں، پانی کے پمپوں اور ٹرکوں کو چلانے کے لیے ناگزیر ہے اور ان بنیادی خدمات میں رکاوٹ ڈالنا اسرائیل کی طرف سے غزہ میں زندگی کی تمام بنیادوں کو منظم طریقے سے تباہ کرنے کا واضح ثبوت ہے۔
تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے پاس انجن آئل کا ذخیرہ اب ایک ماہ سے زیادہ نہیں چل سکتا، جبکہ پرزہ جات کی قلت کے باعث ان کے کچھ آلات پہلے ہی خراب ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی ٹیمیں مقامی مارکیٹ میں بھاری قیمتوں پر سامان تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
تنظیم نے بتایا کہ انجن آئل کی فراہمی میں اتنی کمی ہوئی ہے کہ گذشتہ چھ مہینوں کے دوران اس کی قیمت بیس گنا تک بڑھ گئی ہے۔ جولائی کے اختتام تک ایک لیٹر کی قیمت تیرہ سو امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے اور اس کے باوجود اس کے معیار یا دستیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
پانچ اگست سنہ 2026ء کو دیر البلح میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے فیلڈ ہسپتال کا ایک جنریٹر خراب ہو گیا، جس کے بعد ٹیموں کو ایک چھوٹے ریزرو جنریٹر پر انحصار کرتے ہوئے بجلی کے استعمال میں شدید کٹوتی کرنی پڑی۔
تنظیم نے بتایا کہ وہ آپریشن تھیٹر صرف انتہائی نازک کیسوں کے علاج کے لیے ہی چلا پا رہے ہیں، جبکہ نرسنگ ٹیمیں بنیادی آلات کو جراثیم سے پاک کرنے سے قاصر ہیں۔ ایکسرے کی خدمات بھی بند ہو چکی ہیں، اس کے علاوہ شدید گرمی میں ایئر کنڈیشنگ نہ ہونے کے باعث جلنے کے شکار مریض ناقابل برداشت کرب کا سامنا کر رہے ہیں۔
فلسطین میں تنظیم کے پروگراموں کے کوآرڈینیٹر فلیپے ریبیرو کا کہنا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض سپلائی ختم ہونے کا اتفاقی واقعہ نہیں، بلکہ یہ جان بوجھ کر خون نچوڑنے کی پالیسی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل دو سال سے زائد عرصے سے سامان کی آمد میں رکاوٹ ڈال رہا ہے ۔ یہ نہ صرف امداد کی ترسیل میں تاخیر کر رہا ہے بلکہ ان نظاموں کو بھی تباہ کر رہا ہے جن پر آبادی کی بقا کا دارومدار ہے۔
ریبیرو نے مزید کہا کہ آج کمی انجن آئل اور پرزہ جات کی ہے، کل کسی اور چیز کی ہو گی اور سامان بدلنے سے لوگوں کو ناقابل برداشت حالات میں دھکیلنے کا یہ ظالمانہ منطق نہیں بدلتی۔
منصوبے کی نائب کوآرڈینیٹر علا بردویل نے انتباہ دیا کہ جنریٹرز کا بند ہونا ہسپتالوں کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے، خاص طور پر انکیوبیٹرز میں موجود نوزائیدہ بچوں، آکسیجن پر انحصار کرنے والے افراد اور زندگی بچانے والے آپریشنز کے منتظر مریضوں کے لیے۔
بردویل نے کہا کہ انجن آئل اور پرزہ جات پر پابندی اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی نسل کشی کے تناظر میں لگائی گئی پابندیوں کی ایک کڑی ہے، جس میں بنیادی خدمات اور ضروریات تک رسائی کو جان بوجھ کر محدود کیا جا رہا ہے۔
ان سامان کی کمی کے اثرات صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں ہیں، کیونکہ غزہ کے باشندے فی الحال پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پانی لانے والے ٹرکوں پر انحصار کرتے ہیں۔
جولائی میں پانی اور نکاسی آب کے امور کی نگرانی کرنے والی تنظیموں کے ایک سروے سے پتہ چلا ہے کہ غزہ میں نوے فیصد خاندان پانی کی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
انجن آئل کی بندش کی وجہ سے مختلف ذرائع نقل و حمل کے بند ہونے کا خطرہ ہے، جن میں گرمیوں کی شدت میں پانی پہنچانے والے ٹرک، ایمبولینسیں، طبی عملے کو ان کی کام کی جگہوں تک پہنچانے والی بسیں اور انسانی امداد لے جانے والے ٹرک شامل ہیں۔
بیکریاں اور آٹے کی چکیاں بھی جنریٹرز پر انحصار کرتی ہیں، جو ایندھن اور پرزہ جات کے بحران کے جاری رہنے کی صورت میں خوراک کی پیداوار کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے واٹر ڈی سیلینیشن سینٹر کے جنریٹرز میں سے ایک خراب ہو گیا ہے، جس کی وجہ انجن آئل اور خراب حصوں کو تبدیل کرنے کے لیے پرزہ جات کی کمی ہے۔
جون میں تنظیم کو مرکز کے چلنے کے دورانیے کو روزانہ بارہ گھنٹے سے کم کر کے سات گھنٹے کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں پینے کے پانی کی پیداوار چھ لاکھ لیٹر سے کم ہو کر ساڑھے تین لاکھ لیٹر یومیہ رہ گئی، جس سے چالیس ہزار سے زائد افراد روزانہ پانی کے حصول سے محروم ہو گئے۔
