مقبوضہ بیت المقدس- (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) الخلیل کے گورنر خالد دودین نے مسجد ابراہیمی پر قابض اسرائیلی جارحیت میں اضافے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل دوسرے دن جاری مسجد کے صحن پر چھت ڈالنے کا کام ایک ایسے منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد اس مقدس مقام پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا اور اس کے تاریخی خد و خال کو تبدیل کرنا ہے۔
گورنر دودین نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ قابض اسرائیل اسرائیلی حکومت کے زیرِ قیادت اور وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ کی حمایت یافتہ سازشوں کے تحت حرم ابراہیمی کے اندر ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل حرم ابراہیمی کی سہولیات، بشمول بجلی کے پینلز اور پانی کے کنوؤں پر قبضہ کر کے اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، گذشتہ دس دنوں سے اذان پر پابندی عائد ہے اور شہریوں پر نقل و حرکت کے سخت قدغنیں جاری ہیں۔
گورنر نے الخلیل کی گورنری، بلدیہ الخلیل، قدیم شہر کی تعمیر نو کمیٹی اور دیگر اداروں کے مابین ایک مشترکہ منصوبے کا انکشاف کیا، جس کا مقصد حرم ابراہیمی میں فلسطینی موجودگی کو مضبوط کرنا اور ان منصوبوں کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔
دودین نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیل الخلیل گورنری پر اپنا محاصرہ مزید سخت کر رہا ہے، جس کے تحت 106 آہنی گیٹ نصب کیے گئے ہیں، 16 راستوں اور داخلی راستوں کو مٹی کے تودوں سے بند کر دیا گیا ہے، اور 20 سے زائد نئی یہودی آباد کاروں کی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گورنری نے یہودی آباد کاروں کی طرف سے شہریوں کے خلاف 763 حملے ریکارڈ کیے ہیں، جن میں مار پیٹ، فائرنگ اور فلسطینیوں کی املاک کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قابض اسرائیل پانی کی مقدار کو کم کر رہا ہے اور اس کے ذرائع اور پائپ لائنوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر چکا ہے، جس سے الخلیل گورنری میں پانی کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ قابض اسرائیلی فورسز نے پیر کے روز بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے الخلیل میں مسجد ابراہیمی کے کھلے صحن میں آہنی پل داخل کر کے چھت ڈالنے کا کام شروع کیا تھا۔
اس مہینے کے اوائل میں، قابض اسرائیلی حکومت کے وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے ’معاہدہ الخلیل‘ کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ الخلیل شہر میں منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات قابض فوج کے زیر انتظام ’سول ایڈمنسٹریشن‘ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
سموٹریچ نے پریس بیانات میں کہا کہ الخلیل اور مغربی کنارے میں مقدس مقامات پر منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات دہائیوں سے اوسلو معاہدوں کے تحت محدود تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ الخلیل اور مغربی کنارے میں مقدس مقامات کے انتظامی اختیارات کو اسرائیلی سول ایڈمنسٹریشن کی ’سپریم کونسل برائے منصوبہ بندی‘ کے حوالے کر کے ایک ’تاریخی قدم اور ڈرامائی فیصلہ‘ مکمل کر لیا گیا ہے جو حقائق کو تبدیل کر دے گا۔
یہ اقدام الخلیل شہر کی زندگی، شناخت اور خودمختاری کے خد و خال کو طویل مدتی بنیادوں پر تبدیل کرنے کا عندیہ دیتا ہے اور قابض اسرائیل کے لیے جبری کنٹرول اور الحاق کے ایک نئے مرحلے کا دروازہ کھولتا ہے۔
