Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

فلوٹیلا معاملے پر یورپی سطح پر اسپین کی معاہدے کی معطلی کی اپیل

میڈرڈ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے مطالبہ کیا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا پر وحشیانہ حملے کے پس منظر میں یورپی یونین قابض اسرائیل کے ساتھ اپنا تجارتی و تزویراتی شراکت داری کا معاہدہ فوری طور پر معطل کرے۔

وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ قابض اسرائیل نے بین الاقوامی پانیوں میں سویلین بحری بیڑے کو نشانہ بنا کر ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت زیر حراست ہسپانوی شہریوں کے تحفظ اور مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے لیکن انہوں نے واضح کیا کہ صرف اتنا کرنا کافی نہیں ہے۔ انہوں نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کا معاہدہ منسوخ کرے اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ سمندری قوانین کا احترام کریں۔

یورپی یونین اور قابض اسرائیل کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے والا بنیادی قانونی فریم ورک ہے۔ یہ معاہدہ 20 نومبر سنہ 1995ء کو برسلز میں دستخط کیا گیا تھا اور جون سنہ 2000ء میں نافذ العمل ہوا۔ اس کا مقصد بتدریج آزاد تجارتی زون کا قیام، معاشی، سائنسی اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینا اور سیاسی مذاکرات کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔

اس معاہدے کی دوسری شق میں واضح طور پر درج ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان تعلقات انسانی حقوق کے احترام اور جمہوری اصولوں پر مبنی ہوں گے، جو اس شراکت داری کا بنیادی ستون تصور کیے جاتے ہیں۔

اسی تناظر میں گلوبل صمود فلوٹیلا کا مشن بہار سنہ 2026ء گذشتہ اتوار کو اطالوی جزیرے صقلیہ سے روانہ ہوا تھا جس کا مقصد غزہ کی پٹی پر مسلط ظالمانہ ناکہ بندی کو توڑنا اور وہاں کے محصورین تک انسانی امداد پہنچانا ہے۔

اس مشن میں شامل کشتیوں پر بدھ کی شام قابض اسرائیل کی فوج نے جزیرہ کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں حملہ کیا جہاں 21 کشتیوں کو قبضے میں لے لیا گیا، جبکہ 17 کشتیاں یونانی علاقائی پانیوں تک پہنچنے میں کامیاب رہیں اور 14 کشتیاں اب بھی اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

فلوٹیلا کے منتظمین کے مطابق اس تحریک میں 39 ممالک سے تعلق رکھنے والے 345 شرکاء شامل ہیں جن میں ترکیہ کے شہری بھی موجود ہیں۔ یہ سنہ 2025ء سے جاری اس شہری مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد غزہ کا محاصرہ ختم کرانا ہے۔

یہ کوشش ستمبر سنہ 2025ء کی سابقہ مہم کے بعد کی جا رہی ہے، جس کا اختتام اسی سال اکتوبر میں قابض اسرائیل کے اسی طرح کے ایک حملے اور سینکڑوں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری پر ہوا تھا۔

غزہ کی پٹی سنہ 2007ء سے اسرائیلی محاصرے کا شکار ہے جہاں جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے تقریبا 15 لاکھ فلسطینی انتہائی کٹھن انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری اس نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور 1 لاکھ 72 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ قابض اسرائیل کی سفاکیت نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے بشمول ہسپتالوں اور طبی مراکز کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا ہے۔

غزہ کی پٹی میں ایندھن اور طبی سامان کی ترسیل پر عائد سخت پابندیوں نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے جس کے نتیجے میں ادویات اور ضروری طبی آلات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan