Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

عالمی اداروں کا غزہ میں میڈیا رسائی بحال کرنے کا مطالبہ

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) دُنیا کے بڑے میڈیا اداروں اور خبر رساں ایجنسیوں کے سربراہوں نے قابض اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر عائد ظالمانہ پابندی فوری طور پر ختم کرے۔

بی بی سی، سی این این، رائٹرز، جرمن نیوز ایجنسی اور واشنگٹن پوسٹ سمیت بین الاقوامی میڈیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے ایک مشترکہ بیان میں اس بات پر زور دیا کہ صحافیوں کی میدان میں موجودگی مختلف بیانیوں کی تصدیق، عام شہریوں سے براہ راست رابطے اور حقائق کو ان کی اصل شکل میں دنیا کے سامنے لانے کے لیے اشد ضروری ہے۔

میڈیا سربراہوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ قابض اسرائیل نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کو اپنی وحشیانہ جارحیت کے آغاز سے ہی صحافیوں کا غزہ میں داخلہ بند کر رکھا ہے، حالانکہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہے۔

22 سے زائد میڈیا اداروں کے چیف ایڈیٹرز نے واضح کیا کہ قابض اسرائیلی حکومت نے ان پابندیوں کے حوالے سے مذاکرات کی ان کی تمام کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا، جس سے ان پابندیوں کے تسلسل پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔

دوسری جانب صہیونی حکام اس پابندی کا جواز پیش کرتے ہوئے سکیورٹی خدشات، فوجیوں کے ٹھکانوں کے بے نقاب ہونے اور غزہ کے ایک فعال جنگی علاقہ ہونے کا بہانہ تراش رہے ہیں۔

اگرچہ قابض اسرائیل نے سخت نگرانی میں کچھ غیر ملکی صحافیوں کو محدود دوروں کی اجازت دی ہے، تاہم عالمی میڈیا اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے اندر آزادانہ نقل و حرکت اور پیشہ ورانہ صحافتی سرگرمیوں کو یقینی بنایا جائے۔

صہیونی بہانوں کو مسترد کرتے ہوئے مدیران نے کہا کہ جنگ بندی کے باعث لڑائی کی شدت میں واضح کمی آئی ہے اور صحافیوں کی موجودگی سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب امدادی کارکنوں کی آمد و رفت کے لیے میکانزم موجود ہے تو صحافیوں کو اس سے کیوں مستثنیٰ رکھا گیا ہے؟

اسی تناظر میں غزہ کی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ قابض صہیونی افواج نے اپریل کے مہینے میں جنگ بندی کے معاہدے کی 377 بار خلاف ورزی کی، جس کے نتیجے میں 111 فلسطینی شہید اور 376 زخمی ہوئے۔

حکومتی بیان کے مطابق معاہدے کے تحت طے شدہ 18 ہزار امدادی ٹرکوں کے مقابلے میں اب تک صرف 4503 ٹرک ہی غزہ کی پٹی میں داخل ہو سکے ہیں، جو کہ کل تعداد کا محض 25 فیصد ہے۔

ایندھن کی سپلائی میں بھی شدید کمی دیکھی گئی ہے جہاں طے شدہ 1500 ٹرکوں کے بجائے صرف 187 ٹرک داخل ہوئے، یعنی صرف 12 فیصد۔ اس صورتحال نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے اور صحت، پانی اور توانائی جیسے بنیادی شعبوں کو مفلوج کر دیا ہے۔

غزہ کی حکومت نے اسے امداد کی ترسیل میں ایک منظم رکاوٹ اور آبادی کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھنے کی دانستہ کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹال مٹول سے جنگ بندی کی کوششیں کمزور ہو رہی ہیں اور انسانی صورتحال بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے ثالثوں اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ بغیر کسی انتخاب کے معاہدے کی تمام شقوں پر عمل درآمد کرے، امداد اور ایندھن کی ترسیل میں تیزی لائے اور گزرگاہوں کو باقاعدگی سے کھولے۔

غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ بندی کے باوجود قابض اسرائیل کی سفاکیت کی وجہ سے 824 فلسطینی شہید اور 2316 زخمی ہو چکے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس نسل کشی میں اب تک شہداء کی مجموعی تعداد 72 ہزار 601 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ اس جارحیت نے غزہ کی پٹی میں رہائشی مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan