غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں وزارت اقتصاد کے انڈر سیکرٹری حسن ابو ریالہ نے انکشاف کیا ہے کہ غاصب صہیونی ریاست کی مسلسل ناکہ بندی اور مظالم کے باعث غزہ کی پٹی میں روٹی کی دستیابی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں روزانہ ایک لاکھ 70 ہزار روٹی کے پیکٹوں کی قلت کا سامنا ہے۔
غزہ گورنری میں عمائدین اور معززین کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کے مظلوم عوام کی روزانہ کی ضرورت 3 لاکھ روٹی کے پیکٹ ہے جبکہ اس وقت صہیونی پابندیوں اور پیداوری ذرائع کی تباہی کے باعث صرف 1 لاکھ 30 ہزار پیکٹ ہی فراہم اور تقسیم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت کی ٹیمیں غذائی تحفظ کو بہتر بنانے اور خوراک کی قلت کے حوالے سے پھیلنے والے ہراس کو روکنے کے لیے شب و روز کام کر رہی ہیں جبکہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کے لیے غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں عملہ تعینات کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ صرف خوراک ہی نہیں بلکہ گاڑیوں کے تیل اور کاغذ جیسی بنیادی اشیاء کی بھی شدید قلت ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ دشمن کی طرف سے مسلط کردہ یہ معاشی ناکہ بندی کس قدر وسیع اور ہولناک شکل اختیار کر چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارت اپنے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہفتہ وار بنیادوں پر کام کر رہی ہے تاکہ ناجائز منافع خوری کو روکا جا سکے اور اسی مقصد کے لیے ہفتے میں دو مرتبہ قیمتوں کی سرکاری فہرست جاری کی جاتی ہے۔
حسن ابو ریالہ نے قابض اسرائیل کی سفاکیت کو بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی کی اس جنگ میں غزہ کی پٹی کے 90 فیصد سے زائد کارخانوں کو دانستہ طور پر تباہ کر دیا گیا ہے جس نے مقامی پیداواری صلاحیت کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ تاجروں کو بنیادی اشیائے ضروریہ کی درآمد کی ترغیب دی جائے تاکہ محصور فلسطینیوں کی کم از کم بنیادی ضرورتیں پوری کی جا سکیں۔
