فلوریڈا – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات کے نتائج نے قابض اسرائیل میں تشویش اور ہلچل مچا دی ہے۔ یہ صورتحال فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی امیدوار اینجی نکسن کی یہودی امیدوار ایلکس ونڈمین کے مقابلے میں جیت کے بعد پیدا ہوئی، جو انتخابی مہم کے دوران مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد نکسن نے چھپن فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ ونڈمین صرف چوالیس فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔ یہ نتیجہ مبصرین کے لیے ایک بڑا سرپرائز تھا، کیونکہ انتخابی پیشگوئیوں میں ان کے حریف کی جیت کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
نکسن ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے سے تعلق رکھتی ہیں اور پارٹی کے اندر قابض اسرائیل کی سب سے نمایاں ناقدین میں شمار ہوتی ہیں۔ انہیں کانگریس کی رکن راشدہ طالب اور الہان عمر کی حمایت بھی حاصل تھی۔
نکسن اس سے قبل غزہ کی پٹی میں اسرائیلی کارروائیوں کو قتل عام اور نسل کشی قرار دے چکی ہیں۔ انہوں نے نومبر سنہ دو ہزار تئیسء میں ایک بل بھی پیش کیا تھا جس میں قابض اسرائیل کو امریکی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
نکسن کی اس جیت کو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند بائیں بازو کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی ایک نئی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ کامیابی زوہران ممدانی کی نیویارک سٹی کونسل کے انتخابات میں جیت اور امریکہ کے مختلف علاقوں میں پرائمری انتخابات کے دوران سوشلسٹ اور ترقی پسند امیدواروں کی مسلسل کامیابیوں کے تناظر میں ہوئی ہے۔
عبرانی ذرائع کے مطابق یہ تبدیلی قابض اسرائیل میں گہرے خدشات کو جنم دے رہی ہے۔ یہ خدشات ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے میں اسرائیل مخالف آوازوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہیں، اور اس کے نتیجے میں امریکی-اسرائیلی تعلقات کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خاص طور پر غزہ کی پٹی میں جاری جنگ اور امریکہ کے اندر قابض اسرائیل کو امریکی حمایت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بحث کے تناظر میں یہ پیش رفت انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
