غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 12 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا ہےٍ ریڈ کراس کے عملے نے ان تمام اسیران کو اپنی تحویل میں لے کر غزہ منتقل کیا۔ اسرائیلی زندانوں میں طویل اور مختلف مدتوں کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد رہائی پانے والے یہ غازی اور اسیران خان یونس کے ” الناصر میڈیکل کمپلیکس منتقل کیے گئے، جہاں ان کے اہل خانہ نے ان کا پُرجوش استقبال کیا اور ان کی صحت کے لیے طبی معائنے کیے گئے۔
ناصر میڈیکل کمپلیکس پہنچنے والے اسیران میں سامر فوزی المدهون (عمر 46 سال) – غزہ
2. رائد حمدي عبد العال (عمر 46 سال) – غزہ
3. خضر موسیٰ سلامہ (عمر 50 سال) – خان یونس
4. فادی أحمد سلامہ (عمر 31 سال) – غزہ
5.بلال ہانی عبد ربہ (عمر 35 سال) – جبالیا
6. عبد الناصر اسماعیل البدرساوي (عمر 56 سال) – البریج
7. سلام فؤاد الأدهم(عمر 38 سال) – بیت لاھیا
8. محمد سعید الزہار (عمر 41 سال) – غزہ
9. یوسف زاهر أبو زیادہ (عمر 23 سال) – الشاطئ
10. سفیان تیسیر القانوع (عمر 35 سال) – جبالیا
11. محمد محمود القدرہ (عمر 37 سال) – بیت لاھیا
12. صہیب رمزي حلس (عمر 17 سال) – غزہ
شامل ہیں
اس پس منظر میں، اسیران کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے گزشتہ ماہ کے آخر میں «بین الاقوامی یومِ جبری گمشدگی کے شکار افراد» کے موقع پر جاری کردہ اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ قابض حکام غزہ کے قیدیوں کو بیرونی دنیا سے کاٹ کر جبری گمشدگی کا شکار بنائے ہوئے ہیں، جس سے ان کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ قانون اور انسانی حقوق کی نگرانی کے فقدان کی وجہ سے صیہونی جیلوں میں قیدیوں پر وحشیانہ تشدد، بدسلوکی اور طبی غفلت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں درجنوں اسیران شہید ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قابض فوج نے غزہ کے اسیران کے لیے خاص طور پر کئی حراستی کیمپ اور جیلیں مختص کر رکھی ہیں، جن میں سدیہ تیمان، عناتوت، عوفر، نفتالی کیمپ اور رملہ جیل کا رکيفت سیکشن شامل ہیں۔ رہا ہونے والے اور وکلاء کے ذریعے ملنے والی شہادات سے صیہونی جیلوں کے اندر ہونے والے انتہائی ہولناک اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
