غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یہ صرف ایک اجتماعی جنازہ نہیں تھا بلکہ یہ اس سفاکانہ اور روح فرسا المیے کا نوحہ تھا جسے غزہ کی خونچکاں تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ سوگواروں کا وہ سمندر جو 112 تابوتوں کے پیچھے خاموشی سے رواں دواں تھا، دراصل اس نسل کشی کی گواہی دے رہا تھا جو صیہونی درندوں نے اس خطے کے باسیوں پر ڈھائی تھی۔
وقت کے ہزار کٹھن دن بیت گئے الصبرہ کا وہ پورا رہائشی بلاک جو قابض اسرائیل کے زہریلے بارود سے راکھ کا ڈھیر بن گیا تھا، آج اپنے اندر چھپے رازوں کو باہر اگلنے پر مجبور ہو گیا۔ ملبے اور کنکریٹ کی قبروں سے جب ابو شریعہ اور الحسائنہ خاندانوں کے شہداء کی باقیات روشنی میں آئیں تو فضا سوگوار ہو گئی۔ یہ وہ مظلوم تھے جن کے معصوم جسموں کو ظلم نے ہمیشہ کے لیے چھپانا چاہا تھا، مگر ان کی یادیں آج بھی فلسطینیوں کے سینوں میں زندہ و جاوید ہیں۔
تئیس نومبر سنہ 2023ء کی وہ سیاہ رات آج بھی دلوں کو چیر دیتی ہے جب غاصبوں کی اندھی بمباری نے ایک ہی پل میں سینکڑوں معصوم جانوں کو نگل لیا تھا۔308 چاند جیسے چہرے موت کی آغوش میں سو گئے جن میں دودھ پیتے بچوں سے لے کر بے بس خواتین اور معذور افراد تک شامل تھے۔ ظالموں نے زخمیوں کی آہ و بکا پر بھی رحم نہ کیا اور ریسکیو ٹیموں کو اس مقتل گاہ تک آنے سے روک دیا، یہاں تک کہ وہ لاشیں جو اپنوں کے کاندھوں پر جانے کی مستحق تھیں، اس اندھیرے ملبے تلے گل سڑ گئیں۔
آج جب یہ جنازے اٹھے تو یوں لگا جیسے پورا غزہ امڈ آیا ہو۔ یہ جنازے محض لاشوں کا سفر نہیں تھے بلکہ اس عزم کا اعادہ تھے کہ مظلومیت کی یہ داستانیں کبھی پرانی نہیں ہوں گی۔ روحی فتوح اور مصطفى البرغوثی سمیت تمام انسانی حقوق کے علمبرداروں نے اس اندوہناک منظر کو بین الاقوامی ضمیر کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ قرار دیا ہے۔ یہ اس مکروہ جنگ کی وہ تصویر ہے جس میں انسانیت کا خون پانی کی طرح بہایا گیا اور دنیا تماشائی بنی رہی۔
آج بھی ہزاروں معصوم روحیں ملبے کی قید میں اپنے اپنوں کی منتظر ہیں۔ یہ جنازے اس تلخ حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ غزہ میں ظلم کی داستانیں صرف بمباری پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ اپنوں کی جدائی کا یہ لامتناہی دکھ نسلوں تک سسکیاں بن کر گونجتا رہتا ہے۔ صیہونی قاتل جتنے بھی پردے ڈال لیں، مگر یہ بے گناہ لاشیں قیامت تک ان کے سفاک چہروں کو بے نقاب کرتی رہیں گی۔
