Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ و لبنان میں خونریزی پر عالمی خاموشی پر فلسطینی پادری کا سوال

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی پادری منذر اسحاق نے مطالبہ کیا ہے کہ حقیقی غم و غصے کا رخ غزہ کی پٹی اور لبنان میں نہتے شہریوں کی دانستہ نشانہ سازی، قابض اسرائیلی فوج کی وحشیانہ سفاکیت اور وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کی جانب موڑا جائے، بجائے اس کے کہ سارا غصہ اس مجسمہ مسیح پر صرف ہو جسے ایک قابض اسرائیلی فوجی نے تباہ کر دیا ہے۔

مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں واقع ایوینجلیکل لوتھرن کرسمس چرچ کے پادری منذر اسحاق نے امریکہ کی معروف سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غم و غصہ محض حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تباہ شدہ مجسمے پر مرکوز نہیں ہونا چاہیے، چاہے یہ فعل کتنا ہی قبیح اور ہولناک کیوں نہ ہو۔

انہوں نے گذشتہ پیر کے روز اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ اصل اور حقیقی غصہ تو ان نہتے شہریوں کی شہادتوں پر ہونا چاہیے جنہیں چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، انسانی وقار کی تذلیل پر ہونا چاہیے اور غزہ کی پٹی اور لبنان میں مچائی جانے والی تباہی پر ہونا چاہیے۔ یہ جنگ سراسر شر ہے اور ہمیں اس کے ذمہ داروں کے کڑے احتساب کی ضرورت ہے۔

گذشتہ اتوار کے روز منظر عام پر آنے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک قابض اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان کے قصبے دبل میں ایک کلہاڑے سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کو مسمار کر رہا ہے۔ اس واقعے نے مقامی اور عالمی سطح پر غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور مذہبی و سیاسی حلقوں کی جانب سے اس کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، کیونکہ اسے ایک مقدس مذہبی علامت کی توہین قرار دیا جا رہا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں کیتھولک گرجا گھروں کے سربراہوں نے بھی گذشتہ پیر کے روز ایک مشترکہ بیان میں اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے مذہبی شعائر کی سنگین خلاف ورزی اور انسانی وقار کی تذلیل قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کا سختی سے احتساب کیا جائے۔

پیر کے روز قابض اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے رپورٹ کیا کہ مجسمہ توڑنے والے اس فوجی کے خلاف کوئی باقاعدہ تحقیقات نہیں کی جائیں گی بلکہ اس کے ساتھ صرف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے اپنے ایک منافقانہ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور فوجی کا یہ رویہ ان اقدار کے سراسر منافی ہے جو اس کے فوجیوں سے متوقع ہوتی ہیں۔

گذشتہ 2 مارچ سنہ 2026ء سے قابض اسرائیل نے لبنان پر وحشیانہ جارحیت کا آغاز کر رکھا ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2294 افراد شہید اور 7544 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد لوگ دربدر ہو چکے ہیں۔ یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ جمعرات کی شام سے 10 روزہ سیز فائر کے معاہدے کا اعلان نہیں کر دیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan