غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں اب کسی بھی ایسے مقام کا تصور باقی نہیں رہا جسے محفوظ مقام کہا جا سکے۔ جامع نسل کشی کی جنگ کے تقریباً تین سال گزرنے کے بعد بھی قابض اسرائیلی فوج قتل و غارت کے میدان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہی ہیں اور وہ اپنے اہداف کی شہری حیثیت کی ذرا بھی پروا نہیں کرتیں۔ چاہے وہ لوگ سمندر کے کنارے کسی کیفے میں چائے کا کپ پی رہے ہوں یا کسی پرانی بمباری سے جان بچا کر نقل مکانی کے خیمے میں پناہ لیے ہوں یا پھر امدادی اشیاء کی تقسیم کے قریب موٹر سائیکل پر سوار ہوں۔
صرف چار دنوں کے اندر اندر یعنی گذشتہ پندرہ اگست سے اٹھارہ اگست تک ایک رپورٹ نے چار اسرائیلی حملوں کی دستاویز بندی کی ہے جن کے نتیجے میں مجموعی طور پر نو فلسطینی شہید اور بیس سے زائد زخمی ہو گئے۔ اس بار بار دہرائے جانے والے طرز عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غزہ کے شہری جہاں کہیں بھی ہوں موت ان کا پیچھا کر رہی ہے خواہ وہ اپنے گھروں میں ہوں، پناہ گاہوں میں ہوں یا ان سڑکوں پر ہوں جہاں وہ کھانے یا روٹی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔
عین الحلوہ والمرہ کیفے: بندرگاہ کے کنارے خونریزی
ان تازہ ترین اور خونریز ترین حملوں میں قابض اسرائیل کی افواج نے گذشتہ روز منگل کی شام کو سات فلسطینی شہریوں کو شہید اور پندرہ کو زخمی کر دیا۔ یہ حملہ مغربی غزہ شہر میں شہریوں سے بھرے ہوئے العین الحلوہ والمرہ کیفے پر ڈرون طیاروں کے ذریعے کیا گیا جو گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ہونے والے سب سے خونی حملوں میں شمار ہوتا ہے۔
اس حملے میں شہید ہونے والے افراد میں محمد حمدی احمد المصری عمر پینتیس سال اور ان کے صاحبزادے جہاد عمر تیرہ سال، عصام محمد موسى مرتضیٰ عمر اکتیس سال، محمد فتحی حسين ناصر عمر چونتیس سال، صامد سمير حرب أبو حبل عمر تینتیس سال، محمد نجيب عيسى العطار عمر اٹھائیس سال اور مصعب محمد حسن ماضي عمر چوبیس سال شامل ہیں۔
مرکز برائے انسانی حقوق کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق یہ حملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ قابض افواج پناہ گاہوں اور اجتماعات کی جگہوں پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں کسی بھی ایسے مقام سے محروم کر رہی ہیں جو انہیں امن یا استحکام فراہم کر سکے۔ اس طرح قتل، زخم اور خوف و ہراس غزہ کے باسیوں کا گھروں، پناہ گاہوں اور عام جگہوں پر یکساں طور پر تعاقب کر رہا ہے۔
مواصی میں نقل مکانی کرنے والے کا خیمہ
اس سے دو دن پہلے یعنی سولہ اگست سنہ2026ء اتوار دو بج کر تیس منٹ پر ایک اسرائیلی ڈرون نے خان یونس شہر کے مغربی علاقے مواصی میں واقع الاقصیٰ یونیورسٹی کے موڑ کے قریب نقل مکانی کرنے والے ایک شخص کے خیمے پر میزائل سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں سات شہری مختلف نوعیت کے زخموں کا شکار ہو گئے۔ اس ہدف بنائے جانے کے تقریباً پانچ گھنٹے بعد طبی ذرائع نے ایک زخمی کی شہادت کا اعلان کر دیا جو اپنے شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے اور ان کا نام طارق أنور خميس الراعي عمر تینتیس سال تھا۔
اس سے ایک دن پہلے پندرہ اگست سنہ دو ہزار چھبیس بروز ہفتہ شام چار بج کر پچاس منٹ پر خان یونس شہر کے مختلف علاقوں کو جن میں ابو حمید چوک، سکہ روڈ، اس کے جنوب کا علاقہ، سنیہ مسجد روڈ، طینہ روڈ، شہر کے جنوب اور مشرق میں بطن سمین کا علاقہ شامل ہے توپ خانے کی گولہ باری اور دھواں دار بموں کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی قابض فوج کے فوجی دستوں کی طرف سے کی گئی جبکہ ہیلی کاپٹروں سے شدید فائرنگ بھی کی گئی اور ڈرون طیارے مسلسل پرواز کرتے رہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں چودہ سالہ بچہ سہيل مسعود رباع شلوف طینہ روڈ پر اس علاقے کے اندر شہید ہو گیا جسے پیلا علاقہ کہا جاتا ہے۔ اس کی لاش کو نکالنے کا انتظام ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے ذریعے کیا گیا اور وہ اگلے روز اتوار کی صبح ناصر میڈیکل کمپلیکس پہنچ گئی۔
اندھا دھند گولہ باری کے نتیجے میں مختلف جگہوں پر تین شہری بھی زخمی ہوئے جبکہ جورة اللوت کے علاقے میں جو کہ پیلے خط کے متصل ہے المصری خاندان کے محلے میں شہریوں کے گھروں پر بھی گولہ باری کی گئی جس سے تین گھر تباہ ہو گئے اور علاقے میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس کے علاوہ شراب خاندان کے ایک گھر پر بھی گولہ گرا لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
انروا کے امدادی مرکز کے قریب موٹر سائیکل پر حملہ
اسی دن ایک اسرائیلی ڈرون نے گیارہ بج کر پچاس منٹ پر دیر البلح شہر میں صلاح الدین روڈ پر شہداء الاقصیٰ ہسپتال کے دروازے کے قریب اقوام متحدہ کے امدادی ادارے انروا کے ایک امدادی مرکز کے گردونواح میں رواں دواں ایک موٹر سائیکل پر میزائل داغ دیا۔ اس کے نتیجے میں تین شہری جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے مختلف زخموں سے زخمی ہو گئے جبکہ موٹر سائیکل کے ڈرائیور کے زخموں کو انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا۔
منظم ہدف بنانے کا تسلسل
حقوقی رپورٹ کے مطابق یہ چاروں حملے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ قابض افواج بھری ہوئی شہری بستیوں کے درمیان قانون کے دائرے سے باہر قتل و غارت کے آپریشن کرنے میں جان بوجھ کر مصروف ہیں۔ جس طرح دن دہاڑے عام شہریوں اور مہمانوں کے درمیان الع الحلوہ والمرہ کیفے کو نشانہ بنایا گیا اس سے مرکز برائے انسانی حقوق کے مطابق قابض افواج کے اس پہلے سے طے شدہ ارادے اور عزم کا پتہ چلتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ فلسطینیوں کی جانیں لینا چاہتی ہیں۔
مرکز اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ گنجان آباد شہری علاقوں میں یہ حملے اس حقیقت کے باوجود کیے جا رہے ہیں کہ قابض افواج کے پاس جدید ترین جاسوس اور نگرانی کی ٹیکنالوجی موجود ہے اور ان کے ڈرون افراد کا تعاقب کرنے اور انتہائی درستگی کے ساتھ اہداف طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی خاص شخص کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کرنے کے باوجود دراصل زیادہ سے زیادہ شہریوں کو نشانہ بنانا چاہتی ہیں۔
مرکز اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ چاروں حملے قابض اسرائیل کی اس منظم پالیسی کے سیاق و سباق میں آتے ہیں جو قتل اور دہشت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتی ہے اور یہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف کی جانے والی نسل کشی اور نسلی تطہیر کے جرائم کا براہ راست تسلسل ہے۔
یہ سوال بدستور قائم ہے کہ عالمی برادری غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کے جرائم کو روکنے اور اس کے ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانے کے لیے کب حرکت میں آئے گی تاکہ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مرتکب افراد کو سزا سے بچنے کا موقع نہ مل سکے۔
