غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی ہلال احمر نے اعلان کیا ہے کہ فروری سنہ 2026ء کے اوائل میں رفح کراسنگ کو محدود پیمانے پر دوبارہ کھولے جانے کے بعد سے اب تک صرف 700 مریض ہی علاج کے لیے غزہ کی پٹی سے باہر جا سکے ہیں، جبکہ اس وقت بھی 18 ہزار سے زائد مریض اور زخمی طبی انخلاء کے منتظر ہیں۔
ہلال احمر کے ترجمان رائد النمس نے کہا کہ موجودہ انخلاء کی رفتار انتہائی سست ہے اور یہ بڑھتی ہوئی ضروریات کے حجم سے مطابقت نہیں رکھتی، انہوں نے طبی وسائل کی شدید کمی کے سائے میں غزہ کی پٹی میں صحت کے بحران کے مزید سنگین ہونے کے بارے میں خبردار کیا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہزاروں تشویشناک مریض مناسب طبی دیکھ بھال نہ ملنے کے باعث موت کے دہانے پر ہیں، انہوں نے انخلاء کی فہرستوں میں اپنی باری کا انتظار کرنے والے مریضوں میں ہونے والی اموات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانی جانوں کے ضیاع کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں، اور ایسے کئی مریض ہیں جو محض تاخیر کے باعث اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
رائد النمس نے بتایا کہ کیسز کا انتخاب طبی معیارات کے مطابق کیا جاتا ہے جن کا انحصار صحت کی نازک صورتحال پر ہوتا ہے، تاہم سکیورٹی منظوریوں سے جڑی پیچیدہ کارروائیاں مریضوں کے باہر جانے میں رکاوٹ بن رہی ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی صحت مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال کراسنگز کی نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے سائے میں پیش آ رہی ہے، جہاں قابض اسرائیل رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے سمیت غزہ کی پٹی کے تمام داخلی راستوں پر قابض ہے، جس نے مریضوں کے لیے علاج کی خاطر بیرونِ ملک سفر کرنے کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔
ہلال احمر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے تاکہ کراسنگز کو مستقل بنیادوں پر کھولنے کو یقینی بنایا جا سکے، طبی معاملات کو سیاسی رسہ کشی سے الگ رکھا جائے اور طبی انخلاء کے لیے محفوظ اور مستقل راستے فراہم کیے جائیں۔
اس سلسلے میں غزہ واپس آنے والے شہریوں نے اطلاع دی ہے کہ انہیں شدید کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس میں گھنٹوں تک حراست اور تفتیش شامل تھی، تب کہیں جا کر انہیں گزرنے کی اجازت دی گئی۔ واضح رہے کہ جنگ سے پہلے کراسنگ کے ذریعے سفر کی نقل و حرکت قابض اسرائیل کی براہ راست مداخلت کے بغیر کافی حد تک ہموار تھی۔
جنگ کے آغاز سے ہی غزہ میں صحت کے حالات غیر معمولی حد تک بگڑ چکے ہیں، جہاں بنیادی طبی ڈھانچہ وسیع پیمانے پر تباہ ہو چکا ہے اور ادویات و طبی سازوسامان کی فراہمی پر مسلسل پابندیاں عائد ہیں۔ یہ صورتحال 24 لاکھ فلسطینیوں کے مصائب میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے جو انتہائی کٹھن انسانی حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔
