غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حالیہ رپورٹس نے غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی جنگ اور ظالمانہ محاصرے کے نتیجے میں بچوں کی صحت کی صورتحال میں ہونے والی غیر معمولی گراوٹ کے بارے میں خبردار کیا ہے، جو برسوں تک رہنے والے سنگین نتائج کا پیش خیمہ ہے۔ غذائی قلت سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلاؤ اور صحت کے نظام کی مکمل تباہی نے اس بحران کو مزید ہولناک بنا دیا ہے۔
الجزیرہ کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق غزہ میں ہزاروں بچے ’خون کی کمی‘ اور تیزی سے پھیلنے والی جلدی بیماریوں کے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔ خوراک اور وٹامنز کی شدید کمی کے ساتھ ساتھ صفائی ستھرائی کے بنیادی سامان کی عدم دستیابی نے ان معصوم بچوں کی صحت کو تیزی سے بربادی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
طبی ماہرین نے خون کی کمی کی شرح میں ہونے والے خوفناک اضافے کی نشاندہی کی ہے، جو جنگ سے پہلے تقریباً 10 فیصد تھی اور اب بڑھ کر تقریباً 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ سنگین صورتحال شدید غذائی قلت اور بنیادی غذائی ضروریات بالخصوص بچوں کے لیے خوراک کی فراہمی میں مکمل ناکامی کا نتیجہ ہے۔
یہ بحران صرف خون کی کمی تک محدود نہیں ہے بلکہ بچوں میں پیچیدہ جلدی امراض بھی شدت سے پھیل رہے ہیں۔ صاف پانی کی عدم دستیابی اور ذاتی نگہداشت کی اشیاء کی قلت یا ان کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے نے بچوں کے نازک اجسام کو مسلسل زخموں اور انفیکشن کا شکار بنا دیا ہے۔
یہ اشارے اس وسیع تر صحت کے بحران کا حصہ ہیں جس سے غزہ کی پٹی نبرد آزما ہے۔ اس سے قبل بھی رپورٹس میں خبردار کیا گیا تھا کہ وٹامنز کی کمی اور غذائی قلت کے باعث ایسی بیماریاں دوبارہ سر اٹھا رہی ہیں جو دنیا بھر سے ختم ہو چکی تھیں، جیسے ہڈیوں کا نرم ہونا (ریکٹس) اور اعصابی کمزوری، جبکہ عام آبادی میں بھی خون کی کمی کی شرح ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے۔
صحت کا شعبہ ادویات اور طبی سازوسامان کی شدید قلت کا شکار ہے، جبکہ خون کے یونٹس کی دستیابی میں بھی بڑی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ صورتحال زخمیوں اور مریضوں کی زندگیوں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، خاص طور پر جب کہ طبی امداد کی فراہمی کے لیے کراسنگز کو مسلسل بند رکھا جا رہا ہے۔
طبی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ حالات بچوں کی ایک پوری نسل پر طویل مدتی صحت کے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، جن میں جسمانی اور ذہنی نشوونما میں رکاوٹ اور قوت مدافعت کی کمی شامل ہے، جو انہیں برسوں تک دائمی بیماریوں کا شکار بنا سکتی ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں بین الاقوامی سطح پر ان مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے کہ خوراک اور ادویات کی فراہمی پر عائد پابندیاں فوری ختم کرنے کے لیے ہنگامی مداخلت کی جائے تاکہ اس سے پہلے کہ یہ بحران ایک ایسی دائمی تباہی میں بدل جائے جسے سنبھالنا ناممکن ہو، غزہ کے نظام صحت کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔
