Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ میں شدید گرمی، زندہ رہنا بھی ایک کڑا امتحان بن گیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں موسمِ گرما اب محض سورج کی تپش کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ اہلِ غزہ کے صبر اور ان کی بقا کا وہ کٹھن امتحان ہے جس کا ہر لمحہ موت اور زندگی کے بیچ جھول رہا ہے۔ ایک ایسا موسم جو کبھی ساحل کی لہروں، خاندانی مسکراہٹوں اور خوشگوار یادوں کا امین ہوا کرتا تھا، آج وہی موسم نسل کشی کی اس صلیب پر لٹکے ہوئے انسانوں کے لیے ایک قیامت خیز عذاب بن چکا ہے۔ شدید گرمی، پینے کے پانی کا سراب، بجلی کا اندھیرا اور پناہ گاہوں میں انسانی ہجوم نے زندگی کی سانسوں کو گھٹن میں بدل دیا ہے۔

بقائے حیات کی روزانہ کی جنگ

جیسے ہی سورج افق سے طلوع ہوتا ہے، ایک طویل، تپتا ہوا دن انسانیت کی دہلیز پر دستک دیتا ہے۔ ہر خاندان سایہ تلاش کرنے کی سرتوڑ کوشش میں مصروف ہے، کہیں سے ہوا کا ایک جھونکا آ جائے تو ٹھنڈک کا احساس ہو، مگر تپتے ہوئے خیمے تو خود تندور بنے ہوئے ہیں۔ معصوم بچے، ضعیف العمر بوڑھے اور بے بس مریض، اس قہر انگیز گرمی کے سب سے پہلے شکار ہیں۔ پانی کا ایک قطرہ حاصل کرنا بھی اب زندگی کی بڑی جنگ بن چکا ہے۔ لوگ ہر بوند کو سنبھال کر استعمال کرتے ہیں، لیکن صفائی اور طہارت کے لیے درکار پانی کا فقدان بیماریوں کو دعوت دے رہا ہے۔

پناہ گزین کیمپوں میں خیموں کے اندر کا درجہ حرارت اور پسینے سے شرابور جسموں کی بو، ایک ایسی اذیت ہے جس کا تصور بھی محال ہے۔ مائیں، جو اپنی اولاد کے لیے جینے کا حوصلہ رکھتی ہیں، اب بے بسی کے عالم میں اپنے بچوں کو گرمی سے بلکتا دیکھ رہی ہیں۔ ان کے پاس کھانے کو ٹھنڈا رزق ہے، نہ پینے کو میٹھا پانی، بس ایک نہ ختم ہونے والی اذیت۔

“جہنم کا ایک ٹکڑا”

وسطی غزہ کے ایک کیمپ میں مقیم 60 سالہ “امِ جمال” کی آنکھوں میں آنسو اور لہجے میں کرب ہے۔ وہ خیمے کو ایک “جہنم کا ٹکڑا” قرار دیتی ہیں۔ ان کی آواز میں دردِ ہے “ہم تو روز مرتے ہیں، یہ زندگی نہیں، موت کا مسلسل سفر ہے۔ خیمہ سورج نکلتے ہی دہکنے لگتا ہے، ہم اس کے اندر ایسے پک رہے ہیں جیسے موسمِ گرما میں انجیر پک کر بکھر جاتی ہے۔” وہ مزید بتاتی ہیں کہ دن بھر مکھیاں اور رات کو زہریلے مچھر اور حشرات انہیں سکون کی ایک گھڑی بھی نصیب نہیں ہونے دیتے۔

ایک اور پناہ گزین “ابو سالم” کی داستان بھی دل کو چھید دینے والی ہے۔ وہ کہتے ہیں “یہاں ہر گھڑی زندگی اور موت کی جنگ ہے۔ نیند کے لیے کیڑوں سے لڑنا پڑتا ہے اور پینے کے پانی کے لیے اپنی عزتِ نفس کو داؤ پر لگانا پڑتا ہے۔ میرے بچے جلد کی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں، لیکن پانی کی کمی نے ہمارے لیے غسل کرنا بھی ایک خواب بنا دیا ہے۔”

المیہ: عالمی خاموشی اور ٹوٹتا ہوا نظام

اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹس صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ یہ غزہ کے مرتے ہوئے انسانوں کی چیخیں ہیں۔ خیموں میں پھیلتی جلد کی بیماریاں، ناقص صفائی اور نکاسی آب کے نظام کی مکمل تباہی، یہ سب کچھ دنیا کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ “اونروا” اور عالمی ادارہ صحت کی چیخ و پکار یہ بتا رہی ہے کہ غزہ کا ہیلتھ سسٹم آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔ ادویات نہیں، پٹیاں نہیں، پانی نہیں، بس موت کا رقص ہے جو اس گرمی میں مزید تیز ہو گیا ہے۔

غزہ کا یہ موسمِ گرما صرف ایک موسم نہیں، یہ انسانیت کی بے بسی کا آئینہ دار ہے۔ یہاں زندگی کی بنیادی سہولیات، جو دنیا کے لیے معمولی ہیں، فلسطینیوں کے لیے ایک محال خواب بن چکی ہیں۔ یہ گرمی، یہ پیاس، یہ تپتے ہوئے خیمے، سب گواہی دے رہے ہیں کہ غزہ کے لوگ صرف قابض دشمن سے نہیں لڑ رہے، وہ قدرت کی تپش اور دنیا کی سردمہری کے بیچ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ موسمِ گرما غزہ کے عوام کی استقامت، ان کی قربانیوں اور اس کرب کا استعارہ ہے جو تاریخ کے سینے پر ہمیشہ کے لیے ثبت رہے گا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan