غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں ایندھن کی شدید قلت اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث زیادہ تر سواریاں ناکارہ ہو جانے کے بعد اب سائیکلیں نقل و حمل کا بنیادی ذریعہ بن چکی ہیں۔ تاہم اسپیئر پارٹس کی قلت اور ان کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے ان ہزاروں فلسطینیوں کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں جو اپنی روزمرہ کی نقل و حمل اور معاش کے حصول کے لیے سائیکلوں پر انحصار کرتے ہیں۔
سائیکل مرمت کرنے والی دکانوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ پرزے انتہائی نایاب ہو چکے ہیں اور اگر دستیاب بھی ہوں تو ان کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔ ’الجزیرہ‘ کے مطابق جو پرزے پہلے انتہائی سستے داموں ملتے تھے، اب ان کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ کچھ مخصوص پرزے تو بھاری قیمت ادا کرنے کے باوجود مارکیٹ میں تلاش کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔
مرمت کاروں کا کہنا ہے کہ اس بحران کا براہ راست اثر ان کی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت پر پڑا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے دیگر سواریوں کا تصور ختم ہو چکا ہے، لوگوں کا سائیکلوں پر انحصار بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب کاریگر متبادل حل تلاش کر رہے ہیں، جیسے کہ ناکارہ پرزوں کو دوبارہ استعمال میں لانا یا ان کی عمر بڑھانے کے لیے انہیں کاٹ چھانٹ کر جوڑنا تاکہ زیادہ سے زیادہ گاہکوں کی مدد کی جا سکے۔
باشندگان کی مشکلات صرف پرزوں کی کمی تک محدود نہیں ہیں بلکہ تباہ حال اور ناہموار سڑکیں بھی ان کی پریشانی میں اضافہ کر رہی ہیں۔ سڑکوں کی خستہ حالی کے باعث سائیکلیں جلدی خراب ہو رہی ہیں، جس سے مرمت کی ضرورت بڑھ جاتی ہے جبکہ ضروری لوازمات دستیاب ہی نہیں ہیں۔
سائیکل استعمال کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ مناسب پرزہ تلاش کرنے کے لیے پٹی کے مختلف علاقوں کی خاک چھانتے ہیں، لیکن اکثر ناکام رہتے ہیں۔ جنہیں پرزے مل بھی جاتے ہیں، انہیں اپنی استطاعت سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
مرمت کرنے والے دکانداروں اور شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کریں، کیونکہ سائیکلیں اب نقل و حمل کی مرکزی شریان بن چکی ہیں اور بہت سے لوگ انہی کے ذریعے اپنے کاموں پر پہنچتے ہیں اور گھروں اور پناہ گاہوں تک سامان پہنچاتے ہیں۔
قابض اسرائیل کی جانب سے گاڑیوں کو چلانے کے لیے ضروری ایندھن کی فراہمی پر پابندی کے بعد سائیکلیں نقل و حمل کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک عملی آپشن کے طور پر ابھری ہیں۔ یہ اب بیک وقت نقل و حمل اور روزگار کا ذریعہ بن چکی ہیں، باوجود اس کے کہ ان کی مرمت کے لیے درکار سامان کی شدید کمی ہے۔
غزہ میں وزارتِ نقل و حمل نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ پٹی میں نقل و حمل کا بحران سنگین تر ہو رہا ہے۔ وزارت نے نشاندہی کی کہ سڑکوں کے نیٹ ورک اور گاڑیوں کی تباہی کے ساتھ ساتھ ایندھن کی شدید کمی نے پبلک ٹرانسپورٹ کی خدمات کو بہت پیچھے دھکیل دیا ہے، جس نے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سائیکلوں پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
