Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ میں زندگی اجیرن، بقا کے لیے خوراک، پانی اور بنیادی ضروریات کی جنگ جاری

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں اب شہریوں کو درپیش خطرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے، بلکہ قابض صہیونی دشمن کی مسلط کردہ جنگ نے پیچھے ایک ایسا تباہ حال نظام چھوڑا ہے جس کی بحالی یا مرمت ناممکن حد تک مشکل ہو چکی ہے۔ روزمرہ کی زندگی اب باہم جڑے ہوئے بحرانوں کے ایک ایسے سلسلے کی قیدی بن چکی ہے جہاں ایک سروس کی بندش دوسری کئی خدمات کو مفلوج کر دیتی ہے، اور کسی ایک بنیادی مواد کی کمی پوری سروس کو معطل کر سکتی ہے جس پر مقامی آبادی کا انحصار ہے۔

ہسپتال نصف صلاحیت پر، اور مریض قیمت چکانے پر مجبور

ہسپتالوں کے اندر بحران صرف ادویات کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ بنیادی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہو چکی ہے۔ آکسیجن، لیبارٹریز، طبی آلات اور اسپیئر پارٹس، سب کے سب ایک ہی تباہ کن سلسلے کی کڑیاں بن چکے ہیں۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 34 میں سے صرف 12 آکسیجن پلانٹس کام کر رہے ہیں، جبکہ 30 میں سے صرف 4 آلات ہی فعال ہیں، حالانکہ نازک حالت میں موجود مریضوں کو بلاتعطل فراہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ادویات اور طبی سامان کی قلت کا خلا بڑھتا جا رہا ہے، جہاں ادویات کی مجموعی کمی 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ کینسر، خون، زچہ و بچہ کی صحت اور گردوں کی بیماریوں کی ادویات کی قلت اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ تشخیص اور نگرانی کے لیے ضروری لیبارٹری مواد کی بھی شدید کمی ہے۔

جب خرابی کو ٹھیک کرنا، خرابی برداشت کرنے سے مشکل ہو جائے

سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ ادارے جو ان بحرانوں کو حل کرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے، خود آپریٹنگ بحران کا شکار ہیں۔ اسپیئر پارٹس، ایندھن، تیل اور آلات کی کمی کے ساتھ ساتھ دیکھ بھال کا سامان پہنچانے میں مشکلات نے خرابیوں کو مزید سنگین بنا دیا ہے کیونکہ اب ان کی مرمت کوئی معمول کی کارروائی نہیں رہی۔ یوں ایک خراب مشین ٹھپ ہو جانے والی سروس بن جاتی ہے اور یہی بند سروس ہزاروں افراد کے لیے عذابِ جان بن جاتی ہے۔

پانی کی قلت؛ ضروریات سے کہیں کم فراہمی

ہسپتالوں سے دور پانی کے نیٹ ورکس کی صلاحیت بھی آبادی کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ خان یونس میں پانی کا نظام تقریباً 75 فیصد تباہ ہو چکا ہے، جبکہ درجنوں پمپنگ اسٹیشنز اور آبی تنصیبات کو چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نیٹ ورکس کی تنزلی کے باعث اب آبادی کا انحصار ٹرکوں کے ذریعے پہنچائے جانے والے پانی پر ہے، جس کے لیے ایندھن، گاڑیوں اور فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے پانی کا حصول ایک طویل اور پیچیدہ عمل بن گیا ہے۔

نکاسی آب کا نظام؛ ایک خاموش مہلک خطرہ

نکاسی آب کے نظام کی خرابی بظاہر ایک معمولی واقعہ لگتی ہے، مگر گنجان آباد علاقوں میں اس کا اثر فوری طور پر پھیلتا ہے۔ گٹر صاف کرنے والی مشینوں کو ایندھن اور اسپیئر پارٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب یہ نظام کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، تو گلیوں میں اور بے گھر افراد کے خیموں کے ارد گرد گندا پانی جمع ہو جاتا ہے، جس سے یہ بحران ایک سنگین طبی اور ماحولیاتی خطرے میں بدل جاتا ہے۔

کچرے کے ڈھیر اور بلدیاتی نظام کی بے بسی

تباہ حال شہر میں کوڑا کرکٹ اٹھانا صرف ایک بلدیاتی خدمت نہیں، بلکہ صحتِ عامہ کی حفاظت کی آخری دفاعی لائن ہے۔ مگر آلات، ایندھن اور مرمتی مواد کی کمی کے باعث بلدیات کی کچرا اٹھانے اور ملبہ ہٹانے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ گذشتہ مئی سنہ 2026ء میں اقوام متحدہ نے بتایا تھا کہ غزہ شہر میں کچرے کے ایک عارضی مقام پر ڈھیر 14 میٹر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ جنوبی غزہ میں 4 لاکھ 70 ہزار مکعب میٹر کوڑا جمع ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ صرف بدبو اور منظر کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس سے آگ لگنے، کیڑے مکوڑوں کے پھیلنے اور بیماریوں کے وبائی صورت اختیار کرنے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔

شہر کا اپنے ہی کھنڈرات میں محصور ہونا

غزہ میں ملبہ صرف تباہ شدہ عمارتوں کے نشانات نہیں، بلکہ یہ سڑکیں کھولنے، خدمات پہنچانے اور پانی و بجلی کے نظام کو بحال کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ملبہ ہٹانے میں ہر تاخیر بحران کو بڑھا رہی ہے۔ بند سڑک ایمبولینس کو روکتی ہے، اور پانی کی پائپ لائن کے گرد پڑا ملبہ اس کی مرمت کو ناممکن بناتا ہے۔

بحران ایک ہے، مگر چہرے بہت سے ہیں

غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے بحرانوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ایندھن کی کمی نقل و حمل کو روکتی ہے، پرزہ جات کی قلت خرابیوں کو مستقل بناتی ہے، پانی کی بندش ٹینکروں پر انحصار بڑھاتی ہے، اور نکاسی آب کی ناکامی صحت کے خطرات کو جنم دیتی ہے۔

جب بنیادی زندگی ایک کامیابی بن جائے

غزہ میں اب روزمرہ کی جنگ صرف محفوظ ٹھکانے یا خوراک کی تلاش تک محدود نہیں رہی؛ بلکہ اب یہ ان چھوٹی چھوٹی تفصیلات تک پھیل گئی ہے جو نارمل حالات میں بنیادی انسانی حق سمجھی جاتی ہیں: پینے کا پانی، فعال ہسپتال، صاف سڑک، کچرے کا انتظام اور نکاسی آب کی بحالی۔ جب یہ خدمات ایک ایک کر کے دم توڑ رہی ہوں، تو سوال اب صرف عمارتوں کی تعمیرِ نو کا نہیں، بلکہ ایک مکمل زندہ نظامِ حیات کو دوبارہ چلانے کا ہے جو اپنی بقا کے بنیادی عناصر کھو چکا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan