Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ میں خواتین، بچوں اور معمر افراد کے تحفظ کے لیے ہنگامی شیلٹرز کی ضرورت

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قانون اور ہاؤسنگ امور کے ماہرین نے اس بات کا پرزور مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فوری طور پر عارضی رہائشی یونٹ لانے کی اجازت دی جائے، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ یہ امداد بغیر کسی امتیازی سلوک کے حق داروں تک پہنچے۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ خواتین کی سربراہی میں چلنے والے خاندانوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین، بچوں، بزرگوں، معذور افراد اور انتہائی کمزور طبقات کو ترجیح دی جائے۔

یہ مطالبات وزارت امور نسواں غزہ کی طرف سے منعقدہ ایک خصوصی ورکشاپ کے دوران سامنے آئے، جس کا مقصد بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور احکام کی روشنی میں (غزہ کی پٹی میں خواتین کے تحفظ کے لیے عارضی رہائشی یونٹس ’شیلٹرز‘ لانے کی سہولت فراہم کرنے کی اہمیت اور ضرورت) پر انسانی صورتحال کو اجاگر کرنا تھا۔

یہ ورکشاپ وزارتِ نسواں کے ذمہ دارانہ کردار کا تسلسل ہےاور یہ فلسطینی خواتین کی دیکھ بھال اور ان کے تحفظ کے لیے اس کے پختہ عزم کا مجسمہ ہے، جن میں خاص طور پر سرپرست خواتین اور بیوہ شامل ہیں جو جاری نسل کشی کی جنگ اور بحالی اور تعمیر نو کے مراحل میں اس کے وسیع اثرات کے نتیجے میں سب سے زیادہ بوجھ اور شدید ترین سختیوں کا سامنا کر رہی ہیں۔

عارضی رہائشی صورتحال

ورکشاپ کا آغاز جس کی نظامت صحافی فداء المدهون نے کی، وزارتِ تعمیرات میں ہاؤسنگ کے ڈائریکٹر جنرل انجینیئر ماہر سالم کی طرف سے عارضی رہائشی صورتحال اور پالیسیوں اور آئندہ مرحلے کی ترجیحات کے جائزے سے ہوا۔

غزہ کی پٹی میں 2023ء تا 2025ء کی نسل کشی کی جنگ کے بعد، جس میں وزارتِ تعمیرات کا پیپر موجودہ رہائشی صورتحال کے نمایاں اشاریوں پر مشتمل تھا، جہاں تقریباً 2 لاکھ 50 ہزار خاندان خیموں میں رہ رہے ہیں، جن میں سے 60 فیصد خیمے بوسیدہ ہو چکے ہیں، اور اصل یہ ہے کہ تباہ شدہ رہائشی یونٹوں کی تعمیر نو تک انسانی رہائش کے کم از کم تقاضوں کو پورا کرنے والے عارضی رہائشی یونٹ فراہم کیے جائیں۔

اس کے علاوہ فلسطین کے لیے قانونی نیٹ ورک – نداء کے ڈائریکٹر اسامہ الغول نے (خیمے سے محفوظ گھر تک: مناسب رہائش کا بے گھر خواتین کا حق اور غزہ کی پٹی میں کیبن لانے کی مہم کا مطالبہ) کے عنوان سے ایک پیپر پیش کیا، جس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا کہ بے گھر فلسطینی خاتون کو محفوظ رہائش فراہم کرنے میں کم از کم جسمانی حفاظت، خاتون اور خاندان کے لیے تحفظ اور رازداری، محفوظ، قریب اور روشن پانی اور صحت کی سہولیات تک اس کا حق، تمام شکلوں میں تشدد سے تحفظ، اور صحت، تعلیم اور خوراک کی خدمات سے قربت شامل ہونی چاہیے، اس کے علاوہ خاندان کا الگ نہ ہونا، اور رہائشی مقامات کے ڈیزائن اور ان کے انتظام میں خود خواتین کی شرکت بھی شامل ہے۔

قانونی بنیاد

جہاں تک مرکز برائے انسانی حقوق کے رائد البرش کا تعلق ہے، تو ان کے پیپر میں غزہ کی پٹی میں عارضی رہائشی یونٹس ’کیبن‘ لانے کے مطالبے کی بین الاقوامی قانونی بنیاد شامل تھی، جن کا ماننا ہے کہ مناسب یا موزوں رہائش کا حق بین الاقوامی چارٹر کے اصولوں اور اقوام متحدہ اور اس کے مختلف اداروں کے فیصلوں کی طرف سے تسلیم شدہ بنیادی حقوق میں سے ایک ہے، اور غزہ کی پٹی میں عارضی رہائشی یونٹس لانا، جب کہ وہ خصوصی طور پر ضرورت مند سویلین آبادی کے لیے مختص ہوں، انسانی امداد اور ہنگامی رہائش کی ایک شکل کی نمائندگی کرتا ہے، اور بین الاقوامی انسانی قانون، بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور سلامتی کونسل کے فیصلوں کے اصولوں کے ایک مربوط نظام پر مبنی ہے۔

دوسری طرف، وزارت امور نسواں کے قانونی مشیر ڈاکٹر محمود زیدان نے اپنے پیپر میں غزہ کی پٹی میں عارضی رہائشی یونٹس (کیبن) لانے کی سہولت فراہم کرنے کے مطالبے کی قانونی تشکیل اور تجزیہ پیش کیا، جو بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے اصولوں پر مبنی ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ خواتین کو بین الاقوامی قانون میں خصوصی تحفظ حاصل ہے، جو خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کی تمام شکلوں کے خاتمے کے کنونشن (CEDAW)، خواتین، امن اور سلامتی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر (1325)، اور چوتھی جنیوا کنونشن کے آرٹیکل (27) پر مبنی ہے جو خواتین کو ان کے اعزاز پر کسی بھی حملے سے خصوصی طور پر تحفظ فراہم کرنے کی تصدیق کرتا ہے۔

تجاویز

ورکشاپ کے اختتام پر ماہرین نے دیگر تجاویز کا ایک مجموعہ پیش کیا جنہیں وزارت امور نسواں غزہ کے آفیشل پیج پر اور ورکشاپ کے ورک پیپرز کی تفصیل کے ساتھ شائع کیا جائے گا، اور ان اہم تجاویز میں سے ایک ہنگامی رہائش سے مناسب عارضی رہائش کی طرف تدریجی منتقلی ہے، جو مستقل رہائش تک پہنچتی ہے، اس بات کی تصدیق کے ساتھ کہ کیبن تعمیر نو کا متبادل نہیں ہیں، اور بین الاقوامی فنڈنگ اور حمایت کو متحرک کرنے کی اہمیت پر زور دیا، اور بحالی اور ابتدائی بحق آوری کے منصوبے کی ترجیحات میں رہائشی پروگرام کو سرفہرست رکھا۔

ماہرین نے ملبے، بقایاجات اور غیر منقع مواد کو تیزی سے ہٹانے، خطرناک عمارتوں کے علاج اور بنیادی ڈھانچے کی مرمت کی طرف اشارہ کیا، جو تعمیر نو شروع کرنے کے لیے بنیادی تقاضے ہیں، انہوں نے تعمیر نو کے لیے ایک مرکزی فلسطینی باڈی تشکیل دینے، اور منصفانہ اور مؤثر منصوبہ بندی کو یقینی بنانے کے لیے نقصانات اور ضروریات کا ایک درست ڈیٹا بیس تیار کرنے کا مطالبہ کیا، اس کے علاوہ رہائش، تعمیر نو اور انسانی ردعمل کے پروگراموں کے درمیان انضمام کو فروغ دینا، تاکہ شہریوں کے تحفظ، ان کے عزم کو مضبوط کرنے، اور محفوظ اور مستقل رہائش کے ان کے حق کو یقینی بنایا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan