غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ان بیانات کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی امداد کا حجم گذشتہ پانچ سالوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، حماس نے ان بیانات کو حقیقت سے کوسوں دور اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
حماس نےایک بیان میں واضح کیا کہ غزہ کی پٹی میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان بیانات کے بالکل برعکس ہے، جبکہ وہاں قابض اسرائیل کی جانب سے فاقہ کشی کے منظم منصوبے کے تحت ایسی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں جو انسانی بحران کو روز بروز سنگین بنا رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ قابض حکام جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے ہیں بلکہ انہوں نے محاصرے کو برقرار رکھ کر اور امداد کی مناسب ترسیل کو روک کر غزہ کی پٹی کے باسیوں کو مسلسل اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔
حماس نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حقوق انسانی کے اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق غزہ کی پٹی کو خوراک، ادویات اور ایندھن جیسی بنیادی اشیاء کی شدید ترین قلت کا سامنا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
تحریک نے ثالثوں اور اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل پر حقیقی دباؤ ڈالنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہوں تاکہ فاقہ کشی کی پالیسی کو روکا جا سکے اور بغیر کسی رکاوٹ کے امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
حماس نے قابض اسرائیل کے رہنماؤں کو ان کے سنگین جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ انہیں بین الاقوامی عدالت کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔
