Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ: ملبے سے 233 شہداء کی لاشیں نکال لی گئیں، 174 افراد کی تلاش جاری

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ گورنری میں شہری دفاع کے عملے نے قابض اسرائیلی فوج کی طرف سے مکینوں کے گھروں پر بمباری کر کے تباہ کیے گئے 20 گھروں کے ملبے تلے سے 233 شہداء کی لاشیں اور باقیات نکال لی ہیں جبکہ ہدف بننے والے ان گھروں میں موجود مجموعی طور پر 407 لاشوں میں سے 174 لاشیں اب بھی ملبے تلے لاپتہ ہیں۔

شہری دفاع کے محکمے میں کالز کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور ریسکیو آپریشنز کے نگران کرنل محمد ابو دان نے واضح کیا کہ جن شہداء کی لاشیں عملے نے کامیابی کے ساتھ نکال لی ہیں ان میں 73 معصوم بچے اور 106 خواتین شامل ہیں جو کہ گھروں کو ان کے مکینوں پر مسمار کرنے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان کی ہولناک تصویر کشی کرتی ہیں۔

شہری دفاع کا عملہ مسلسل 51 ویں روز بھی شہداء کی لاشیں نکالنے کی دوسری مہم جاری رکھے ہوئے ہے جس کے دوران انتہائی کٹھن حالات اور آلات نیز تلاش و بچاؤ کے ذرائع کی شدید کمی کے باوجود کل 381 گھنٹے کام کیا گیا۔

موجودہ مرحلے پر تلاش اور ریسکیو کا کام ان عمارتوں پر مرکوز ہے جن کے بارے میں یہ گمان ہے کہ ان میں سب سے بڑی تعداد میں لاپتہ لاشیں موجود ہیں تاکہ ان تک رسائی حاصل کر کے انہیں نکالا جا سکے اور ان کے لواحقین کے حوالے کیا جائے۔

ملبے تلے تلاش کے عمل کے دوران شہری دفاع کی ٹیموں کو وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی اور محدود وسائل کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے، جو ملبے میں پھنسے ہوئے شہداء کو نکالنے کے عمل کو مزید طول دے رہی ہیں۔

مفقودین کے فائل کی نگرانی کرنے والی سرکاری کمیٹی کے سربراہ عمر نوفل نے اگست کے اوائل میں انکشاف کیا تھا کہ تخمینہ جات کے مطابق غزہ کی پٹی میں اب بھی تقریبا 15 ہزار شہداء تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے موجود ہیں جن تک شہری دفاع کا عملہ یا طبی ٹیمیں پہنچنے سے قاصر ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan