غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں جنگ بندی سے متعلق معاہدے کے اعلانات کے بعد سے معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف منتقلی سیاسی اور سکیورٹی انتظامات کے ایک سلسلے سے جڑی رہی ہے، لیکن یہ انتظامات اس رفتار سے آگے نہیں بڑھے جس رفتار سے انہیں بڑھنا چاہیے تھا۔
ستائیس اکتوبر سنہ 2026ء کو ہونے والے قابض اسرائیل کے کینیسٹ کے انتخابات کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی غزہ کے معاملے میں جمود کے تعلق سے قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے سیاسی حساب کتاب کے ساتھ وابستگی پر سوالات بڑھ رہے ہیں، جو ایک انتخابی معرکہ لڑ رہا ہے جس میں جنگ کے معاملے اور فلسطینیوں کے ساتھ معاہدے کا براہ راست اثر ہوگا۔
اس معاملے کو حرکت دینے کی آخری کوشش امریکی ایلچی جیرڈ کوشنر کے دورے کے ذریعے سامنے آئی، جنہوں نے معاہدے سے متعلق فریقین سے ملاقات کی، تاکہ دوسرے مرحلے سے متعلق انتظامات کو آگے بڑھایا جا سکے۔
لیکن فلسطینی سیاسی تخمینوں کے مطابق اس دورے سے کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی، جو کہ اگلے مرحلے کی طرف منتقلی کے لیے درکار اسرائیلی وعدوں کو پورا کرنے سے بنجمن نیتن یاھو کے انکار کا نتیجہ ہے۔
کوشنر اسرائیلی موقف کو تبدیل کرنے میں ناکام رہے
مصنف وسام أبو شمالہ کا خیال ہے کہ کوشنر کا دورہ کوئی بنیادی پیش رفت حاصل نہیں کر سکا، لیکن اس نے امریکی انتظامیہ پر موجودہ اسرائیلی موقف کی روشنی میں معاہدے کو آگے بڑھانے کی دشواری کو ظاہر کر دیا۔
ابو شمالہ کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے کے نفاذ کے لیے اسرائیلی لچک کی ضرورت ہے، اور یہ ایسی لچک ہے جو انتخابات کے قریب آنے کی روشنی میں حاصل کرنا مشکل ہے، بالخصوص اس لیے کہ بنجمن نیتن یاھو اپنے سیاسی کیمپ کے اندر سے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اور وہ اپنے حامیوں کے سامنے اس روپ میں ظاہر نہیں ہونا چاہتے کہ انہوں نے غزہ کے معاملے میں کوئی رعایت دی ہے۔
ابو شمالہ کے مطابق بنجمن نیتن یاھو موجودہ مرحلے میں انتخابات میں اپنے مواقع کو برقرار رکھنے، یا کم از کم اپوزیشن کو اگلی حکومت بنانے کے لیے درکار مطلوبہ تعداد جو کہ 61 نشستیں ہیں، تک پہنچنے سے روکنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ بنجمن نیتن یاھو ایسے انتظامات کے نفاذ کے بدلے اندرونی سیاسی قیمت چکانے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتا جن کی اسرائیل کے اندر ایسی تشریح کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے جنگ کے دوران اعلان کردہ موقف سے پسپائی اختیار کی ہے۔
ابو شمالہ کا ماننا ہے کہ فلسطینی فریق ان حساب کتاب کو سمجھتا ہے، اور اسی لیے وہ ان شقوں پر دوبارہ مذاکرات کی طرف لوٹنے کی خواہش نہیں رکھتا جن پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے، کیونکہ اس سے اس بات کی واضح ضمانتوں کے بغیر مذاکرات کے ایک نئے دور کا دروازہ کھل سکتا ہے کہ جس بات پر اتفاق کیا گیا ہے اس پر عمل درآمد کیا جائے۔
انتخابی حساب کتاب میں غزہ
دوسری طرف مصنف ابراہیم أبو جابر کا خیال ہے کہ دوسرے مرحلے کے سلسلے میں بنجمن نیتن یاھو کے موقف کو اسرائیلی انتخابات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ غزہ کے منصوبے کے کچھ شقوں سے بنجمن نیتن یاھو کے انکار کو صرف ایک تکنیکی اختلاف قرار دے کر ڈیل کرنا حقیقتِ موقف کی عکاسی نہیں کرتا، یہ واضح کرتے ہوئے کہ اسرائیلی وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی ایسا معاہدہ جس میں “مکمل فتح” کے حصول سے پہلے پٹی سے انخلا شامل ہو، اسے انتخابی مہم کے دوران ان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ابو جابر مزید کہتے ہیں کہ بنجمن نیتن یاھو ایک مشکل مساوات کا سامنا کر رہے ہیں؛ معاہدے میں آگے بڑھنا انہیں اسرائیلی دائیں بازو کی تنقید کا نشانہ بنا سکتا ہے، جبکہ اس سے مکمل پسپائی امریکی انتظامیہ اور ثالثوں کے ساتھ تنازع کا باعث بنتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بڑے فیصلوں کو مؤخر کرنے کے ساتھ مذاکرات کو کھلا رکھنا، اس مرحلے کے لیے ان کے نزدیک سیاسی طور پر سب سے کم خرچ والا آپشن ہو سکتا ہے۔
دھڑے: ہم نے اپنا کام کر دیا ہے
اپنی طرف سے فلسطینی دھڑے کا کہنا ہے کہ انہوں نے پیش کردہ انتظامات کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کر دی ہے، جس میں اسلحے کا فائل اور پٹی کے مستقبل کے انتظام کے ضابطے شامل ہیں۔
فلسطینی دھڑوں نے روڈ میپ کی منظوری اور اسلحے کو سمیٹنے اور اسے ایک فلسطینی فریم ورک کے حوالے کرنے سے متعلق انتظامات میں آگے بڑھنے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا تھا جو پٹی کے انتظام کو سنبھالے۔
لیکن اسرائیلی فریق کی طرف سے نافذ کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں جاری اختلاف کی روشنی میں یہ قدم اب تک دوسرے مرحلے کی طرف حقیقی منتقلی کا باعث نہیں بن سکا۔
یہ صورتحال ثالثوں کو ایک واضح مسئلے سے دوچار کرتی ہے: جبکہ فلسطینی فریقین کا کہنا ہے کہ انہوں نے حساس فائلوں میں رعایتیں پیش کی ہیں، دوسرے مرحلے کے نفاذ کے لیے مطلوبہ اسرائیلی اقدامات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔
کوشنر کے دورے کے بعد کیا ہوگا؟
کوشنر کا دورہ واضح پیش رفت حاصل کرنے میں ناکام رہا جو اگلے امریکی اقدام کے بارے میں ایک سوال اٹھاتا ہے۔
امریکہ اسرائیل پر دباؤ کے اوزار رکھتا ہے، لیکن اس مرحلے میں ان کا استعمال بھی بنجمن نیتن یاھو کی حکومت کے تئیں واشنگٹن کے حساب کتاب اور انتخابات سے پہلے اس کے ساتھ سیاسی تصادم میں داخل ہونے کے لیے امریکی انتظامیہ کی آمادگی کی حد سے جڑا ہوا ہے۔
اس کے برعکس، انتظار جاری رکھنے کا مطلب غزہ کو ایک مشکل حالت میں چھوڑنا ہے، خاص طور پر اسرائیلی کارروائیوں کے تسلسل اور جانی نقصان، اور تعمیر نو سے متعلق اقدامات اور پٹی کے انتظام کے انتظامات میں تاخیر کے ساتھ۔
نتیجتاً یہ آنے والے ہفتے اس بات کا تعین کرنے میں فیصلہ کن ہو سکتے ہیں کہ آیا دوسرا مرحلہ انتخابات سے پہلے شروع ہوگا، یا اس کے بعد تک کے لیے مؤخر رہے گا۔
غزہ تاخیر کی قیمت چکاتا ہے
سیاسی حساب کتاب سے ہٹ کر غزہ کے رہائشی وہ فریق بنے ہوئے ہیں جو اس تاخیر کے نتائج اٹھا رہے ہیں۔
دوسری طرف منتقلی میں ہر تاخیر کا مطلب ایسے انتظامات میں تاخیر ہے جو مزید استحکام، تعمیر نو، انسانی حالات کی بہتری اور جنگ بندی کے استحکام کا باعث بننے والے تھے۔
اسرائیلی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ فلسطینیوں کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ غزہ کا فائل ایک انتخابی کارڈ میں تبدیل ہو جائے، یہاں تک کہ بڑے فیصلے کرنا زمین پر بحران کے خاتنے سے جڑنے کے بجائے اس بات سے جڑ جائے جو رائے دہتی صندوقوں میں بنجمن نیتن یاھو کے لیے فائدہ مند ہو۔
ابھی تک اس بات کے کوئی فیصلہ کن اشارے نہیں ہیں کہ دوسرا مرحلہ ستائیس اکتوبر سے پہلے شروع ہوگا۔
لیکن اس کے برعکس اس بات کا یقین کرنا بھی مشکل ہے کہ یہ اس تاریخ تک منجمند ہی رہے گا۔
جو چیز واضح دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ معاہدے کا مستقبل تین بنیادی عوامل سے جڑ گیا ہے: بنجمن نیتن یاھو کا موقف، امریکی دباؤ کا حجم اور اسرائیل کو اس کے وعدوں کا نفاذ یقینی بنانے کے لیے ثالثوں کی صلاحیت۔
جبکہ یہ حساب کتاب جاری ہیں، غزہ اس بات کا انتظار کر رہا ہے کہ متعلقہ دارالحکومت کیا فیصلہ کرتے ہیں، جبکہ اسرائیلی انتخابات کی تاریخ تیزی سے قریب آ رہی ہے۔
