جنوبی شام – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) شام کے جنوبی سرحدی علاقوں میں قابض اسرائیل کی تازہ ترین میدانی حرکات کے تناظر میں مغربی درعا کے حوض اليرموك کے علاقے میں اتوار کے روز ایک قابض صہیونی فوجی دستے نے گھس کر یلغار کی، جب کہ ساتھ ہی قابض فوج نے القنیطرہ کے دو مقامات پر عارضی فوجی چوکیاں بھی قائم کر دیں۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سات فوجی گاڑیوں پر مشتمل ایک قابض صہیونی فورس نے اليرموك کے علاقے میں گھس کر کارروائی کی، جہاں چار فوجی گاڑیاں صیصون جملہ کے راستے پر مورچہ زن ہوئیں، جب کہ تین گاڑیاں مختصر وقت کے لیے قریہ جملہ میں داخل ہوئیں اور بعد ازاں پیدادہ دستے کے ہمراہ وادی الرقاد کے راستے سے واپس چلی گئیں۔
القنیطره میں مقامی ذرائع نے تصدیق کی کہ قابض فوج نے ہفتے کی شب محافظہ کے جنوب میں واقع عین العبد الأصبح کے راستے پر تین فوجی گاڑیوں کی مدد سے ایک عارضی چوکی قائم کی۔
اسی طرح شام میں قابض اسرائیل کے جرائم کی نگرانی اور دستاویز بندی کرنے والے تخصصی مرکز سجل کے مطابق ہفتے کی شام جباتا الخشب أوفانيا کے راستے پر ایک عارضی فوجی چوکی قائم کی گئی۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ قابض فوج نے راہگیروں کو روک کر انہیں تذلیل آمیز تلاشی کے عمل سے گزارا۔
یہ تمام حرکات و سکنات شام کے جنوب میں قابض اسرائیل کی جاری سفاکیت کے ساتھ ہوبہو مطابقت رکھتی ہیں، جس میں زمینی یلغار، چوکیوں کا قیام، گھروں میں گھس کر تلاشی لینا، گرفتاریاں کرنا اور مختلف علاقوں میں فضائی حملے اور بمباری شامل ہیں۔
یاد رہے کہ شامی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز مغربی دمشق کے علاقے مزرعہ بيت جن اور قریہ بيت جن کے راستے پر ایک شامی سول کار پر قابض اسرائیلی ڈرون حملے کی پُر زور مذمت کی تھی اور اسرائیل کو اس گھناؤنے جرم کے تمام بھیانک نتائج کا براہِ راست ذمہ دار ٹھہرایا تھا جو خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کو مسلسل ہوا دے رہا ہے۔
شامی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے پرزور مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا کماحقہ پاسداری کریں اور شامی خودمختاری کی ان پے در پے اسرائیلی پامالیوں کو روکنے کے لیے عملی اقدام اٹھائیں۔
اس کے برعکس قابض صہیونی فوج نے یہ اعلان کیا کہ اس کے دستوں نے شام کے جنوب میں ایک ایسے شخص پر گولیاں چلائی ہیں جس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس نے قابض فوج کے لیے براہِ راست خطرہ پیدا کیا تھا، جب کہ قابض فوج کے ریڈیو نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے یہ نقل کیا کہ مبینہ ہدف بننے والا شخص قابض فوج پر بم دھماکا کرنے کی مذموم سازش تیار کر رہا تھا، جو کہ سراسر قابض اسرائیل کا من گھڑت بیانیہ ہے۔
شام کو قابض اسرائیل پر ذرہ بھر اعتماد نہیں
یہ تمام سنگین میدانی پیش رفت ایسے وقت میں روننما ہو رہی ہے جب شامی وزیرِ خارجہ اسعد الشيبانی نے یہ بیان دیا ہے کہ اٹھارہ اگست کو ابو الظهور فوجی ائیر بیس پر قابض اسرائیل کے مجرمانہ حملے کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ تمام تر رابطے منقطع ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ سکیورٹی معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کا سلسلہ جلد ہی دوبارہ بحال ہو جائے گا۔
شعد الشيبانی نے روئٹرز کی طرف سے شائع ہونے والے بیانات میں واضح کیا کہ شام کو فی الوقت قابض اسرائیل پر ذرہ بھر اعتماد نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے سفاکانہ طاقت کے بل بوتے پر اپنی نام نہاد سلامتی کو برقرار رکھنے کی ناکام کوشش کی ہے اور وہ دنیا میں کہیں بھی اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا، انہوں نے قابض دشمن کو دعوت دی کہ وہ شام کی طرف سے امن و سفارت کاری کی بڑھائی جانے والی دوستی کا ہاتھ تھامنے کے اس سنہری موقع کو ہرگز ہاتھ سے نہ جانے دے۔
شام کے جنوبی علاقے سنہ 2024ء کے اواخر سے ہی قابض اسرائیل کی روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی یلغار اور فوجی نقل و حرکت کا سامنا کر رہے ہیں، جب قابض اسرائیل نے سنہ 1974ء میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور بفر زون اور دیگر شامی علاقوں کے اندر اپنی سفاکانہ فوجی موجودگی کو وسیع کر دیا تھا۔
قابض اسرائیل کے اس مذموم پھیلاؤ میں بفر زون کے اندرونی مقامات اور جبل الشيخ کے شامی حصے پر غاصبانہ تسلط بھی شامل ہے، اس کے علاوہ سنہ 1967ء سے شامی جولان کے بیشتر رقبے پر جاری قابضانہ تسلط بدستور برقرار ہے۔
