غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر سات اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری قابض اسرائیل کی وحشیانہ جارحیت کے اثرات اور نہتے شہریوں کے خلاف سنگین صہیونی جرائم کے بڑھتے ہوئے شواہد کے پیش نظر فلسطینی انسانی حقوق کے اداروں نے ان خلاف ورزیوں کی دستاویز سازی اور ذمہ داروں کے عالمی تعاقب کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو دیے گئے اس خصوصی انٹرویو میں، آزاد باڈی برائے انسانی حقوق کے نائب سربراہ جمیل سرحان نے ان قانونی بنیادوں کی وضاحت کی ہے جن پر موجودہ صورتحال کا نقشہ تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے احتساب کے عمل میں انسانی حقوق کے اداروں کے کردار اور انصاف کی راہ میں حائل سیاسی و قانونی چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
غزہ میں ہونے والی پامالیاں نسل کشی کی تعریف پر پوری اترتی ہیں
سرحان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قابض فوج جو جرائم کر رہی ہے وہ بعینہ وہی افعال ہیں جو سنہ 1949ء کے نسل کشی کی روک تھام کے معاہدے میں درج ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس معاہدے کی دوسری شق میں شدید جسمانی نقصان پہنچانا، بڑے پیمانے پر جانی نقصان کرنا، نسل کشی کرنا اور زندگی کے بنیادی ذرائع کو تباہ کرنا جیسے افعال شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر سے اب تک جو کچھ ہوا وہ واضح طور پر ان افعال کے ارتکاب کو ظاہر کرتا ہے۔ ہسپتالوں کو نشانہ بنانا، حاملہ خواتین پر حملے اور جنین کو پہنچنے والے شدید نقصانات دستاویزی طور پر ثابت ہیں۔ اس کے علاوہ شہداء اور زخمیوں کی بڑی تعداد، معذور ہونے والے افراد اور انفراسٹرکچر کی وسیع پیمانے پر تباہی اس کا بین ثبوت ہے۔
مجرمانہ ارادہ بیانات اور منظم طرز عمل سے واضح ہے
سرحان نے اس بات پر زور دیا کہ مجرمانہ ارادے کا پہلو بالکل واضح ہے۔ ان کے بقول یہ ارادہ قابض فوج کے ان رہنماؤں کے اعلانیہ بیانات پر مبنی ہے جو نسل کشی اور تباہی کی دعوت دیتے ہیں اور فلسطینیوں کو انسانیت کے درجے سے خارج قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف جغرافیائی علاقوں میں ایک ہی طرز کے جرائم کا بار بار دہرایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ نسل کشی کا جرم ایک سوچے سمجھے منصوبے اور نیت کے تحت کیا جا رہا ہے۔
عالمی معیار کے مطابق درست دستاویز سازی
سرحان نے واضح کیا کہ فلسطینی انسانی حقوق کے ادارے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کے مقرر کردہ درست معیار کے مطابق مانیٹرنگ اور دستاویز سازی کا طریقہ کار اپناتے ہیں تاکہ اس کی ساکھ اور غیر جانبداری برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ جس ہسپتال یا مقام پر بھی سفاکیت کا مظاہرہ کیا گیا، اسے تفصیل کے ساتھ قلمبند کیا گیا ہے۔ اس میں واقعے کی تاریخ، پامالی کی نوعیت، ڈاکٹروں اور متاثرین کی شہادتیں شامل ہیں، جو کہ ایک مکمل ڈیٹا بیس کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
ذمہ داروں کے تعاقب کے لیے قانونی فائلیں اور عالمی شراکت داری
سرحان نے اشارہ کیا کہ فلسطینی حقوق کے اداروں کے پاس ہزاروں دستاویزی فائلیں موجود ہیں، جنہیں عالمی اداروں اور دنیا بھر کے کارکنوں کے ساتھ حقیقی شراکت داری کے تحت شیئر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان اداروں نے عالمی فورمز بشمول عالمی فوجداری عدالت میں مقدمات چلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور بنجمن نیتن یاھو اور یوآو گیلنٹ سمیت دیگر اسرائیلی حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کروانے کی تحریک میں معاونت کی ہے۔
امریکی پابندیاں اور انسانی حقوق کے کام پر ان کے اثرات
سرحان نے انکشاف کیا کہ امریکی محکمہ خزانہ نے گذشتہ ستمبر میں فلسطینی انسانی حقوق کے اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں، جن میں الحق فاؤنڈیشن، مرکز برائے انسانی حقوق فلسطین اور میزان سینٹر شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں ان اداروں کے عالمی فوجداری عدالت کے ساتھ تعاون کے پس منظر میں لگائی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں ان کے بینک اکاؤنٹس بند کر دیے گئے اور ان کی ڈیجیٹل و عملی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔
قانونی جدوجہد ایک طویل مدتی راستہ ہے
سرحان نے واضح کیا کہ انسانی حقوق کا کام کسی ایک لمحے پر نہیں رکتا، بلکہ یہ ایک بتدریج عمل ہے جو دس سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اداروں کے پاس اس شعبے میں وسیع تجربہ ہے اور وہ ماضی میں بھی دستاویزی رپورٹوں اور مضبوط قانونی شواہد کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے اور حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
جرائم کی تعریف پر عالمی موقف میں تفاوت
سرحان نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ عالمی اداروں نے ان پامالیوں پر اہم رپورٹیں جاری کی ہیں، جن میں فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مبصرین کی رپورٹیں بھی شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا اعتراف تو کیا ہے لیکن وہ اسے نسل کشی قرار دینے تک نہیں پہنچیں، جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان افعال اور ارادوں کو نسل کشی ہی قرار دیا ہے۔
عالمی تحریک: سیاسی رکاوٹیں اور عوامی جوش و خروش
سرحان نے بیان کیا کہ سرکاری سطح پر عالمی تحرک، خاص طور پر سلامتی کونسل میں، سیاسی اثر و رسوخ کا یرغمال بنا ہوا ہے، بالخصوص امریکہ کا موقف جو قابض اسرائیل کا حمایتی ہے۔
تاہم عوامی سطح پر ایک بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے جہاں میڈیا، سوشل میڈیا اور حقوق کے اداروں نے اصل تصویر دنیا تک پہنچائی ہے، جس سے فلسطینی کاز کے ساتھ عالمی ہمدردی میں اضافہ ہوا ہے۔
چیلنجز کے باوجود احتساب کا عمل جاری ہے
سرحان نے اس بات کی تصدیق کی کہ جنگی جرائم کے مرتکب ملزمان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں، لیکن اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد نہ ہونا ہے، جو انہیں ایک طرح کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل میں احتساب ممکن نہیں، بلکہ شواہد کے انبار اور عالمی دباؤ کے ساتھ یہ راستہ کھلا ہے۔
جدوجہد ہر ذریعے سے جاری رہے گی
سرحان نے اپنے خطاب کے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام اپنے بنیادی حقوق، بشمول حق زندگی، آزادی اور حق خودارادیت کے لیے اپنا دفاع جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر انصاف میں تاخیر بھی ہو جائے تو بھی یہ حق ساقط نہیں ہوگا، ہم قانونی اور حقوقی راستوں پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ ان جرائم کے مرتکب افراد کا احتساب نہ ہو جائے۔
