Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پی ایل ایف نیوز

علاقائی سلامتی کے بحران کی وجہ امریکی فوجی اڈے

تحریر : ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)مغربی ایشیاء جسے مغربی دنیا نے اپنے استعماری پروگرام کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کا نام دیا تھا کئی دہائیوں سے جیو پولیٹیکل کشمکش اور عسکری عدمِ استحکام کا مرکز بنا ہوا ہے۔اس عدم استحکام کی ایک مرکزی وجہ مغربی حکومتوں کی یہاں پر اجارہ داری اور پھر بعد ازاں یہاں پر اسرائیل جیسی ایک ناجائز ریاست کا قیام ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ خطہ مزید غیر مستحکم اس لئے بھی ہوتا چلا گیا کیونکہ یہاں پر مغربی استعماری قوتوں نے اسرائیل کو قائم کیا اور پھر خطے میں اپنی اجارہ داری کو ایک نئی استعمای شکل کے ذریعہ جاری رکھنے کی کوشش کی ۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب بھی فلسطین سمیت اس خطے میں مغربی استعماری حکومتوںنے اپنی سازشوں کا جال بنایا ا سکے مقابلہ میں عوام نے مزاحمت کی۔

غرب ایشیائی خطے میں عدم استحکام اور مسلسل غیر یقینی صورتحال کی ایک مرکزی وجہ یہ بھی ہے کہ عالمی طاقتوں نے ہمیشہ بے جا مداخلت کو جاری رکھا اور خطے کے ممالک کی حکومتوں کو خود مختاری کے ساتھ کام نہیں کرنے دیا گیا۔بالخصوص امریکی فوج کی غیر قانونی موجودگی نے اس خطے کو امن و امان کے گہوارے کی بجائے بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔

حال ہی میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل نے جنگ مسلط کر رکھی ہےاور اس جنگ کا مقابلہ کرتے ہوئے ایران اپنا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اصولئ موقف کو دہرا رہاہے کہ مغربی ایشیاء کے تمام تر مسائل کا حل بیرونی افواج کے مکمل انخلا اور خطے کے ممالک کے باہمی تعاون میں مضمر ہے۔ امریکی فوج کی موجودگی، جو پہلے پہل دفاعی اور نام نہاددہشت گردی کے خاتمے کا لالی پاپ دے کر مسلط کی گئی تھی، اب خطے کے امن و سلامتی اور خودمختاری کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

دیکھا جائے تو ایران کا موقف ایک جاندار اور اصولی موقف ہے کہ خطے میں امریکی افواج کی غیر قانونی موجودگی کو ختم ہونا چاہئیے۔اگر غرب ایشیائی خطے میں امریکی عسکری تاریخ کا تجزیہ کیا جائے تو عراق اور شام سے لے کر خلیجی ریاستوں تک امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی نے سلامتی قائم کرنے کے بجائے صریحاً عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ بغیر کسی بین الاقوامی میساق یا شفاف قانونی جواز کے دیگر ممالک کی سرزمین پر فوجی اڈے بنانا اور آزاد ریاستوں پر عسکری دباؤ ڈالنا نہ صرف بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ علاقائی خودمختاری کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام اقوام امریکی حکومت کو ایک دہشت گرد حکومت سمجھتے ہیں اور امریکی حکومت کی انسان دشمن پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

مغربی ایشیاء میں امریکہ کی طرف سے قائم کردہ یہ اڈے خطے میں غیر یقینی صورتحال کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جہاں جہاں امریکی افواج کے قدم پڑے، وہاں داخلی فسادات، دہشت گرد گروپوں کی نمو اور مستقل بدامنی نے جنم لیا۔ 2003ء میں عراق پر جارحیت ہو یا شام میں غیر قانونی تسلط، امریکی مداخلت نے خطے کو بدامنی اور معاشی تباہی کے سوا کچھ نہیں دیا۔اسی طرح اس سے قبل جنوبی ایشیاء میں یعنی افغانستان میں بھی امریکی افواج نے انسانیت کا بڑے پیمانہ پر قتل عام کیا۔یہ وہ جرائم ہیں جو امریکی حکومت کے ماتھے پر سیاہ دھبہ ہیں اور تاریخ کے اوراق میں عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے منہ چڑا رہے ہیں۔

جہاں ایک طرف غرب ایشیاء میں امریکی فوجی اڈوں کا مسئلہ ہے وہاں ساتھ ساتھ مغربی ایشیاء کے عدمِ استحکام میں سب سے بڑا فیکٹر غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کا مسلسل جارحانہ رویہ اور بدمعاشی ہے۔ غزہ، فلسطین، لبنان ، یمن اور شام پر اسرائیلی حملے اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔صرف گذشتہ تین سالوں میں ہی غاصب اسرائیل نے فلسطین اور لبنان میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو ہولناک بمباری اور خطر ناک ممنوعہ ہتھیاروں سے قتل کیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل کی اس بلاجواز اور وحشیانہ پالیسی کے پیچھے براہِ راست امریکی سرپرستی اور عسکری و مالی امداد کا ہاتھ ہے۔غزہ اور لبنان کے علاقوں کو ملبہ کا ڈھیر بنایاہے۔ اگر غاصب اسرائیل کے 78 سالہ مظالم کو بیان کیا جائے تو لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون غاصب صیہونی حکومت کے ہاتھوں کے ساتھ ساتھ اس کے سرپرست امریکہ اور برطانیہ سمیت ہر اس عرب و غیر عرب مسلمان ملک کی حکومت کے ہاتھوں پر ہے جنہوںنے خاموشی اختیار کی اور امریکہ کا ساتھ دیا۔

امریکہ نے ہر عالمی فورم پر اسرائیل کو تحفظ فراہم کیا اور جدید ترین مہلک ہتھیار فراہم کیے، جس نے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بری طرح متاثر کیا۔ اسرائیل کو ملنے والی اس کھلی چھوٹ اور پشت پناہی نےغاصب صیہونی حکومت کو مزید جارحانہ کارروائیوں پر اکسایا ہے، جس سے پورے خطے کی سلامتی داؤ پر لگ چکی ہے۔

اسی طرح اگر اب حالیہ دنوں ایران پر مسلط کی جانےو الی جنگ سے متعلق بات کریں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ امریکی پالیسی ساز دہائیوں سے ایران کو عسکری گھیراؤ، یکطرفہ اور غیر قانونی اقتصادی پابندیوں ،اور بالواسطہ و بلاواسطہ جنگی اقدامات کے ذریعے دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایٹمی معاہدو (JCPOA) سے یکطرفہ طور پر نکلنا، ایران کی اقتصادی ناکہ بندی کرنا، اور ایرانی عسکری قیادت کو نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ واشنگٹن خطے میں پرامن حل کا طالب نہیں بلکہ اپنے تسلط کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

ایران پر مسلط کردہ اس نادیدہ اور کثیر الجہتی جنگ کا مقصد دراصل خطے کے ان تمام ممالک اور قوتوں کو معطل کرنا ہے جو امریکی و صیہونی تسلط کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ تاہم، اس تمام تر دباؤ کے باوجود تہران نے اپنی خود مختاری پر سمجھوتہ کرنے سے صاف انکار کیا ہے۔یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ خطے میں صرف ایک ایران ہے جس نے امریکی بالا دستی کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا ہے جبکہ دیگر ریاستیں اور خاص طور پر خلیجی ریاستیں تو امریکہ کی بے لوث غلامی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ ایران کا خطے سے امریکی افواج کو نکالنے کا مطالبہ قانونی اور اخلاقی اور سیاسی لحاظ سے درست ہے۔ایران کا یہ واضح اور ٹھوس نقطہ نظر حقیقت پسندانہ بنیادوں پر قائم ہے کہ غرب ایشیاء کی سلامتی کا ضامن صرف اور صرف خطے کے ممالک کا آپسی اتحاد اور بیرونی فورسز کا مکمل انخلا ہے۔کاش کے عرب ممالک کی حکومتیں اس نقطہ نظر کو تسلیم کریں اور باہمی تعاون کی فضاء کو قائم کرتے ہوئے خطے سے امریکی افواج کو نکال باہر کریں۔عرب اور خلیجی ممالک کو سمجھنا ہو گا اور یاد رکھنا ہو گا کہ امریکی موجودگی دفاع کے بجائے حملے اور جوابی کارروائیوں کا باعث بنتی ہے، جس سے خلیجی اور ہمسایہ ممالک بھی خواہ مخواہ کی جنگی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔غیر ملکی افواج کا انخلا خطے کی تمام ریاستوں کو یہ موقع فراہم کرے گا کہ وہ اپنے تنازعات کو ڈائیلاگ اور سفارت کاری کے ذریعے حل کریں۔امریکہ کے عسکری انخلا کے بعدغاصب صیہونی ریاست کی یکطرفہ جارحیت کو کنٹرول کرنا آسان ہو جائے گا اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی بحالی کی راہ ہموار ہوگی۔

امریکی فوج کی مغربی ایشیاء میں موجودگی اب کسی بھی صورت علاقائی استحکام کے لیے سود مند نہیں رہی بلکہ یہ ایک دائی بحران اور جنگی خطرناک صورتحال کا موجب بن چکی ہے۔ مغربی ایشیاء کو اس مسلط کردہ جنگ، اقتصادی استحصال اور عسکری کشمکش سے نکالنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ تمام امریکی افواج کا اس خطے سے مکمل اور فوری انخلا عمل میں لایا جائے۔اگر اقوامِ عالم اور مسلم ممالک خطے میں دائمی امن، ترقی اور اپنے عوام کا محفوظ مستقبل چاہتے ہیں، تو انہیں غیر ملکی عسکری تسلط اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحد ہو کر ایک مؤثر آواز بلند کرنا ہو گی۔ امن کی چابی غیر ملکی اڈوں میں نہیں، بلکہ علاقائی یکجہتی میں پنہاں ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan