مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا کیمپ کے رہائشی اسیر احمد خضر کو رہا کر دیا، جنہوں نے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں 25 سال قید کی صعوبتیں برداشت کی ہیں۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ قابض فوج نے احمد خضر کو سنہ 2001ء میں گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف 25 سال قید کی سزا سنائی تھی، اور اب ان کی سزا کی مدت پوری ہونے پر انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔
رہائی پانے والے اسیر کا تعلق قلندیا پناہ گزین کیمپ سے ہے، وہ ایک ایسے مہاجر خاندان کے چشم و چراغ ہیں جن کے آباؤ اجداد کو سنہ 1948ء میں بئر معین کے گاؤں سے زبردستی بے دخل کیا گیا تھا، وہ اسی کیمپ میں پروان چڑھے اور گرفتاری سے قبل تحریکِ انتفاضہ دوم کے تاریخی واقعات کا مشاہدہ کیا۔
احمد خضر کے اہل خانہ اور قلندیا کیمپ کے غیور باسیوں کی کثیر تعداد نے ان کا بھرپور استقبال کیا اور قابض دشمن کی قید کی سلاخوں کے پیچھے ایک چوتھائی صدی گزارنے کے بعد ان کی آزادی کی خوشی میں پرجوش اجتماعات کیے۔
احمد خضر کی یہ رہائی ایسے نازک وقت میں عمل میں آئی ہے جب ہزاروں فلسطینی اسیران قابض صہیونی عقوبت خانوں میں شدید اذیتوں اور مصائب کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اسیران کے حالاتِ زندگی بہتر بنانے اور ان کی فوری رہائی کے لیے فلسطینی اور بین الاقوامی سطح پر پرزور مطالبات مسلسل کیے جا رہے ہیں۔
سرکاری حقوق نسواں اور انسانی حقوق کے اعداد و شمار سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ رواں جولائی کے اوائل میں قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اسیران کی کل تعداد 9400 سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں 3244 انتظامی قیدی بھی شامل ہیں، اور اس تعداد میں وہ حواتین و حضرات شامل نہیں ہیں جو قابض فوج کے خفیہ فوجی کیمپوں میں حراست میں رکھے گئے ہیں۔
