Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

صبرا و شاتیلا قتل عام کو 44 برس بیت گئے، غزہ کے المیے نے پرانے زخم پھر ہرے کردیے

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) چوالیس برس گذر جانے کے باوجود صبرا اور شاتيلا کی تصاویر لبنان میں فلسطینی یادداشت کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔ سولہ ستمبر سنہ 1982ء کو بیروت کے صبرا اور شاتيلا کے پناہ گزین کیمپوں کی گلیاں ایک ایسے ہولناک سانحے کا منظر پیش کرنے لگیں جو تین دن تک جاری رہا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی اور لبنانی شہید ہو گئے، جبکہ شہداء کی حتمی تعداد کے حوالے سے ذرائع کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔

یہ برسی ایسے وقت میں آ رہی ہے جب غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی مصیبتیں بدستور جاری ہیں، جو ایک بار پھر پرانے سوالات کو سامنے لے آئی ہیں کہ اس المیے کا کتنا حصہ باقی بچا ہے اور چار دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد فلسطینی شہریوں کی زندگیوں میں کیا کچھ تبدیل ہوا ہے۔

تین دن جنہوں نے دونوں کیمپوں کی تاریخ بدل دی

اس ہولناک سانحے کا آغاز سولہ ستمبر سنہ 1982ء کو لبنان پر قابض اسرائیل کی یلغار اور بیروت سے تنظیم آزادی فلسطین کے انخلاء کے فورا بعد ہوا۔

اگلے تین دنوں کے دوران کیمپوں کے باسی جن میں خواتین، بچے اور ضعیف العمر افراد بھی شامل تھے، کو قتل و غارت اور سفاکیت کا نشانہ بنایا گیا، ایسے میں قابض اسرائیلی فوجیں اس علاقے کا محاصرہ کیے ہوئے تھیں اور کیمپوں کے اطراف میں موجود تھیں۔

قابض اسرائیل کی جانب سے قائم کردہ تحقیقاتی کمیشن جسے کہان کمیشن کہا جاتا ہے، نے اس وقت کی قابض اسرائیلی قیادت کو اس سانحے کا بالواسطہ ذمہ دار قرار دیا، جبکہ قتل عام کی براہ راست ذمہ داری ان لبنانی فورسز پر عائد کی گئی جو ان دونوں کیمپوں میں داخل ہوئی تھیں۔

صبرا اور شاتيلا لبنان میں فلسطینی پناہ گزینوں کی تاریخ کے سب سے خونچکاں ابواب میں سے ایک رہے ہیں، اور اس کی وجہ صرف شہداء کی تعداد نہیں ہے بلکہ ان جرائم کی وہ نوعیت بھی ہے جن کا ذکر زندہ بچ جانے والوں نے کیا، اور اس کے نتیجے میں نفسیاتی اور سماجی اثرات مرتب ہوئے جو آنے والی نسلوں تک پھیل گئے۔

ایک ایسی یادداشت جو کبھی محو نہیں ہوئی

طویل سال گزرنے کے باوجود اس سانحے سے زندہ بچ جانے والے افراد اس کی تفصیلات ایسے بیان کرتے ہیں جیسے یہ واقعہ کل ہی پیش آیا ہو۔

کیمپوں کے مکینوں پر جو خوف طاری رہا وہ صرف گولہ باری اور عسکری تصادم تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس خوف کا تعلق اس قتل و غارت اور بربریت سے تھا جو انہوں نے گلیوں اور گھروں کے اندر اپنی آنکھوں سے دیکھی، اور پورے کے پورے خاندانوں کے افراد کا اچانک غائب ہو جانا تھا۔

جوں جوں سال گزرتے گئے، زندہ بچ جانے والوں کی یہ گواہیاں لبنان میں فلسطینی یادداشت کا ایک بنیادی حصہ بن گئیں، خصوصاً کیمپوں کے ان نوجوانوں کے نزدیک جنہوں نے اس سانحے کو خود تو نہیں دیکھا تھا، مگر انہوں نے اپنے آباؤ اجداد سے اس کی کہانیاں اور تصاویر ورثے میں پائیں۔

یوں صبرا اور شاتيلا محض ماضی کا کوئی واقعہ بن کر نہیں رہے، بلکہ یہ فلسطینی پناہ گزینوں کی زندگی کے ہر گوشے اور ان خاندانوں کی کہانیوں کا حصہ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا اور جن کے ناموں اور داستانوں کو دہرانے کا سلسلہ کبھی نہیں تھما۔

صبرا اور شاتيلا سے غزہ تک

اس سانحے کی چوالیسویں برسی کے موقع پر ماضی اور حال کے مابین فرق کو مٹانا مزید مشکل دکھائی دیتا ہے۔

غزہ پر سنہ 2023ء کے ماہ اکتوبر میں شروع ہونے والی حالیہ جنگ کے بعد سے قطاع میں بڑے پیمانے پر تباہی، مسلسل نقل مکانی اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد کی شہادتیں دیکھنے میں آئی ہیں، جبکہ انسانی بحران کے حالات انتہائی ابتر بنے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ امور انسانی کے مطابق ماہ ستمبر سنہ 2026ء کے دوران غزہ کے آبادی والے علاقوں میں فضائی حملے اور یلغار کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں مسلسل جانی نقصان کے ساتھ ساتھ گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور مکینوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری رہا۔ اسی طرح اقوام متحدہ نے موسم باراں کی آمد کے ساتھ پانی، نکاسی آب اور پناہ گاہوں کے حالات مزید ابتر ہونے سے خبردار کیا ہے۔

مغربی کنارے میں بھی اقوام متحدہ کے اعداد و شمار یہودی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، مسماریوں اور جبری نقل مکانی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کیونکہ اقوام متحدہ نے سنہ 2026ء کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران یہودی آباد کاروں کے سولہ سو سے زائد حملوں کی دستاویز بندی کی ہے جن کے نتیجے میں جانی نقصان یا املاک کو نقصان پہنچا۔

جہاں تک غزہ کا تعلق ہے تو اکتوبر سنہ 2025ء میں اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود انسانی ضروریات بہت زیادہ ہیں، جبکہ زخمیوں اور شہداء کی اموات، شہری تنصیبات کی تباہی اور پانی، صحت کی خدمات اور توانائی کے حصول میں مشکلات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ایک جیسی یادداشت مگر مختلف پس منظر

صبرا اور شاتيلا اور غزہ کے موجودہ حالات کا آپس میں موازنہ کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دونوں واقعات ایک جیسے ہیں، کیونکہ ان میں سے ہر ایک کے سیاسی، عسکری اور قانونی حالات بالکل مختلف ہیں۔

لیکن اس فلسطینی کے نزدیک جس نے پناہ گزینی یا نقل مکانی کا تجربہ کیا ہے، تباہ شدہ گھروں، پناہ گاہوں میں پروان چڑھنے والے بچوں اور اپنوں کو کھو دینے والے خاندانوں کے مناظر ایک بار پھر ان پرانے اور ادھورے مناظر کو تازہ کر دیتے ہیں جن کے ابواب کبھی بند نہیں ہوئے۔

صبرا اور شاتيلا میں کیمپ ایک تنگ و تاریک جگہ تھا جہاں وہ پناہ گزین رہتے تھے جو اپنے ساتھ نکبہ اور فلسطین سے جبری بیدخلی کی یادیں لے کر آئے تھے۔

جبکہ غزہ میں مسلسل نقل مکانی لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی کا معمول بن چکی ہے، جبکہ مکینوں کو پانی، صحت کی سہولیات اور بنیادی زندگی کی اشیاء کی قلت کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غزہ میں جن خاندانوں کا جائزہ لیا گیا ان میں سے تقریبا اکانوے فیصد خاندان ستمبر سنہ 2026ء کے دوران پانی کی عدم دستیابی کے درمیانی سے لے کر شدید ترین بحران کا شکار تھے۔

چار دہائیاں اور ایک ہی سوال

شاید صبرا اور شاتيلا کی برسی کے موقع پر آج سب سے زیادہ گونجنے والا سوال یہی ہے کہ آخر کیا بدلا ہے؟

سنہ 1982ء میں لبنان میں فلسطینی نکبہ کے کئی دہائیوں بعد پناہ گزینی کا کرب جھیل رہے تھے، اور بہت سوں کے لیے یہ کیمپ ایک ایسے عارضی جلاوطنی کا پتہ بن چکے تھے جس کا دورانیہ طویل ہوتا گیا۔

چار دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود فلسطینی پناہ گزینوں کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے، جبکہ مقہوضہ علاقوں کے اندر فلسطینی قابض دشمن کے مظاصم، محاصرے، نقل مکانی اور مسلسل جدوجہد کی الگ ہی حقیقت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

خصوصاً غزہ میں حالیہ واقعات نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ جنگ بندی کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ انسانی مصیبتیں ختم ہو چکی ہیں، کیونکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق حملے جاری رہے اور مکینوں کی ضروریات بہت زیادہ رہیں، جبکہ امدادی کوششوں کے سامنے فنڈنگ اور بنیادی مواد کی ترسیل کے حوالے سے رکاوٹیں حائل رہیں۔

صبرا اور شاتيلا محض ایک برسی سے بڑھ کر ہیں

لبنان میں مقیم فلسطینیوں کے لیے صبرا اور شاتيلا کو ہر سال محض ایک تاریخی باب کے طور پر یاد نہیں کیا جاتا۔

زندہ بچ جانے والوں اور کیمپوں کے نوجوانوں کے لیے یہ قتل عام ایک ذاتی یادداشت ہے، خاندان کے ان افراد کی غیر موجودگی ہے جن کے نام اب بھی لوگوں کی محفلوں میں زندہ ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سنہ 2026ء میں اس کی یاد منانا چوالیس سال قبل پیش آنے والے واقعے کی برسی سے بڑھ کر ایک گہرا مفہوم رکھتا ہے، یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ فلسطینی شہریوں کے مصیبتوں کا آغاز غزہ سے نہیں ہوا، بلکہ نقل مکانی، قتل و غارت، گھروں کی مسماری اور امن کی تلاش کی یہ تاریخ نسل در نسل چلی آ رہی ہے۔

صبرا اور شاتيلا کی گلیوں سے لے کر غزہ کے بے گھر کیمپوں تک، فلسطینی یادداشت ہو بہو یہی سوال اٹھاتی دکھائی دیتی ہے کہ جنگ اور نقل مکانی کا یہ سلسلہ کب تھمے گا، اور فلسطینی شہری کو کب یہ حق ملے گا کہ وہ خوف سے آزاد ہو کر زندگی گزار سکے؟

شاید صبرا اور شاتيلا کی یاد کو تازہ کرنے کی اصل اہمیت صرف ماضی کے زخموں کو کریدنا نہیں ہے، بلکہ حال کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنا ہے، اور اس بات پر زور دینا ہے کہ شہریوں کا تحفظ اور خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کا احتساب کسی ایک زمانے یا خطے تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا اصول ہے جو ہر ایک پر لازم ہونا چاہئے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan