غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) آج ایک فلسطینی ماہی گیر کا جسدِ خاکی نکالا گیا جو کل غزہ کے وسط میں دیر البلح کے سمندر میں قابض اسرائیلی گن بوٹس کی فائرنگ سے شہید ہو گیا تھا، جبکہ قابض فورسز نے غزہ میں توپخانے کی بمباری اور فائرنگ کے ذریعے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔
ہمارے نامہ نگار نے ماہی گیر وسام برهم الأقرع کا جسدِ خاکی نکالے جانے کی تصدیق کی، جو کل غزہ کی پٹی کے وسط میں دیر البلح کے سمندر میں قابض گن بوٹس کی فائرنگ سے شہید ہو گئے تھے۔
اسی سیاق و سباق میں قابض فوج کے توپخانے نے آج صبح غزہ کے مشرقی علاقوں میں متعدد مقامات پر گولہ باری کی، جبکہ اسرائیلی گاڑیوں کی طرف سے مسلسل فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے واضح کیا کہ قابض فوج کے توپخانے نے کے جنوب میں خان یونس شہر کے مشرقی اور جنوبی علاقوں کو نشانہ بنایا، اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اسرائیلی گاڑیوں کی طرف سے شہر کے مشرق اور جنوب کے علاقوں میں شدید فائرنگ کی گئی۔
صبح اسرائیلی جنگی کشتیوں کی طرف سے خان یونس شہر کے سمندر پر بھی فائرنگ کی گئی، جبکہ قطاع غزہ کے جنوب کے آسمانوں پر اسرائیلی ڈرون طیارے مسلسل پرواز کرتے رہے۔
یہ پیش رفت غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے تسلسل کے تناظر میں سامنے آئی ہے، ایسے وقت میں جب کل قابض اسرائیل کے فضائی حملوں کے نتیجے میں، جن میں غزہ اور خان یونس کے شہروں کو نشانہ بنایا گیا تھا، سات فلسطینی شہری شہید ہو گئے تھے۔
قابض اسرائیلی فوج پچھلے سال اکتوبر سے نافذ العمل غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں قطاع کے مختلف حصوں میں بمباری اور فائرنگ کے ذریعے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔
