Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

رفح کراسنگ بند، زخمیوں کی منتقلی کا عمل رک گیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اتھارٹی برائے کراسنگ کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل نے آج پیر کے روز غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح بری کراسنگ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے والے مریضوں اور زخمیوں کے انخلا کا عمل رک جائے گا۔

اتھارٹی نے ایک مختصر بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے رفح کراسنگ کی بندش کی وجہ سے پیر کے روز مریضوں کے انخلا کی نقل و حرکت معطل رہے گی، تاہم بندش کی وجوہات یا دورانیے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

قابض اسرائیل نے رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے کو رواں برس 2 فروری سنہ 2026ء کو دوبارہ کھولا تھا، اس سے قبل مئی سنہ 2024ء سے صہیونی افواج نے اس پر قبضہ کر رکھا تھا۔ تاہم، اس کے دوبارہ کھلنے کے بعد بھی کام انتہائی محدود پیمانے پر اور پیچیدہ طریقہ کار کے تحت کیا جا رہا تھا، جس نے سفر کی سہولت بالخصوص مریضوں اور زخمیوں کے لیے شدید رکاوٹیں پیدا کر رکھی تھیں۔

یہ بندش اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی قابض حکام کئی ہفتوں تک کراسنگ کو بند کر چکے ہیں، جس سے ان ہزاروں مریضوں کی تکالیف میں بے پناہ اضافہ ہوا جنہیں ایسے علاج کی ضرورت ہے جو غزہ کی پٹی کے اندر میسر نہیں ہے۔

فلسطینی ریڈ کراس کے ترجمان رائد النمس کے گذشتہ ریڈیائی بیانات کے مطابق، کراسنگ دوبارہ کھلنے کے بعد سے اب تک صرف 700 کے قریب مریض ہی غزہ سے باہر جا سکے ہیں، جبکہ 18 ہزار سے زائد مریض اور زخمی اب بھی طبی انخلا کی فہرستوں میں اپنی باری کے منتظر ہیں۔

اسی طرح رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ کی پٹی میں واپس آنے والے فلسطینیوں نے بتایا کہ انہیں قابض اسرائیل کے انتہائی سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑا، جس میں غزہ واپسی کی اجازت ملنے سے قبل کئی گھنٹوں تک حراست میں رکھنا اور تفتیش کرنا شامل تھا۔

غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے قبل، رفح کراسنگ سے روزانہ سینکڑوں ہجرت کرنے والے یا واپس آنے والے فلسطینیوں کی آمد و رفت رہتی تھی، جو غزہ میں وزارت داخلہ اور مصری حکام کے مشترکہ انتظام کے تحت چلتی تھی اور اس میں قابض اسرائیل کی کوئی براہ راست مداخلت نہیں ہوتی تھی۔

سیز فائر معاہدے کے پہلے مرحلے کے مطابق، جو 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ العمل ہوا تھا، یہ طے پایا تھا کہ قابض اسرائیل رفح کراسنگ کو مکمل طور پر کھول دے گا، لیکن اس نے اس شق پر عمل درآمد نہیں کیا۔

یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قابض اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، جہاں آج پیر کی علی الصبح غزہ کی پٹی پر دو اسرائیلی فضائی حملوں میں ایک فلسطینی شہید اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔

گذشتہ منگل کو غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے اعلان کیا تھا کہ قابض اسرائیل نے 10 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے چھ ماہ کے دوران 2400 بار معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، ان خلاف ورزیوں میں قتل، گرفتاری، محاصرہ اور فاقہ کشی شامل ہے۔

اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) نے گذشتہ اتوار کو کہا تھا کہ قابض اسرائیل نے غزہ میں سیز فائر معاہدے کے پہلے مرحلے کی اکثر شقوں پر عمل درآمد نہیں کیا، بلکہ روزانہ کی بنیاد پر خلاف ورزیاں جاری رکھیں۔ حماس نے مطالبہ کیا ہے کہ قابض دشمن کو پہلے مرحلے کی شقوں پر عمل درآمد کا پابند بنایا جائے تاکہ دوسرے مرحلے کے معاملات پر سنجیدہ مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے۔

واضح رہے کہ قابض اسرائیل نے امریکہ کی بھرپور حمایت کے ساتھ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ پر نسل کشی کی جو جنگ شروع کی وہ دو سال تک جاری رہی، جس کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 72 ہزار سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ غزہ کا 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan