خان یونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے وسط میں دراندازی کی کوشش کرنے والی ملیشیاؤں کے خلاف مزاحمت کاروں کے کامیاب حملے میں قابض اسرائیل کے متعدد ایجنٹ ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیل کے ایجنٹوں کی تین گاڑیاں وسطی خان یونس میں ابو حمید چوک کے قریب دراندازی کر رہی تھیں کہ مزاحمت کے سکیورٹی ونگ نے انہیں بھانپ لیا اور ان کا مقابلہ کیا۔ مزاحمت کاروں نے ایک گاڑی کو براہ راست گولے سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس میں آگ لگ گئی اور اس میں سوار تمام افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق اس حملے کے بعد جائے وقوعہ پر شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں، جبکہ قابض اسرائیل کے طیاروں اور ڈرونز نے باقی بچ جانے والے ایجنٹوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے کے لیے فوری مداخلت کی اور اس دوران ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ اور توپ خانے سے گولہ باری بھی کی گئی۔
علاقے کے قریب موجود شہریوں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں ان ملیشیاؤں کی ایک گاڑی کو جلتے ہوئے اور کئی ایجنٹوں کو فرار ہوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پس منظر میں شدید فائرنگ اور جھڑپوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
واضح رہے کہ گذشتہ سال اکتوبر میں ایک سینئر اسرائیلی سکیورٹی ذریعے نے اعتراف کیا تھا کہ قابض فوج غزہ کی پٹی میں اپنے حق میں کام کرنے والی ان ملیشیاؤں کو فوجی مدد فراہم کر رہی ہے۔
عبرانی اخبار معاریو نے ایک بڑے سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے نقل کیا تھا کہ اسرائیلی فوج اور شاباک غزہ میں حماس کے خلاف کام کرنے والی مسلح ملیشیاؤں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔
مذکورہ ذریعے کا کہنا تھا کہ ہم نے ان ملیشیاؤں کو یلو لائن کے مشرق میں (اسرائیلی کنٹرول والے علاقوں میں) ٹھکانے بنانے کی اجازت دی ہے اور ہم مختلف طریقوں سے ان کی حفاظت کرتے ہیں، جس میں ان کا تعاقب کرنے والی حماس کی فورسز پر حملہ کرنا بھی شامل ہے۔ ہم ان ملیشیاؤں کو غزہ کی پٹی میں حماس کے اقتدار کا متبادل سمجھتے ہیں۔
