غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس میں واقع ناصر میڈیکل کمپلیکس کے سامنے درجنوں کارکنوں اور شہریوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کا مقصد طبی شعبے کی بحالی اور ادویات و طبی آلات کی فوری فراہمی کا مطالبہ کرنا تھا۔
قومی اور اسلامی دھڑوں کی اپیل پر منعقدہ اس مظاہرے میں شرکاء نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ زخمیوں اور مریضوں کی جان بچانے کے لیے صحت کے شعبے کی ضروریات کو پورا کرے۔
ایک سماجی کارکن صابرین الجبری نے کہا کہ اس احتجاج کا مقصد غزہ کی طبی تنصیبات کی حمایت کرنا اور وہاں کام کرنے والوں کی آواز دنیا تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یہاں ان کے ساتھ کھڑے ہونے آئے ہیں تاکہ عالمی برادری اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے۔ الجبری نے نشاندہی کی کہ ہسپتالوں میں بستروں، ادویات اور طبی ٹیسٹ کے سامان کی شدید قلت ہے، اور انسانی جانیں بچانے کے لیے بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔
ادھر خاندان عوض کے مختار، رجب عوض نے کہا کہ یہ احتجاج غزہ کے صحت کے شعبے کی زبوں حالی اور جنگ کے آغاز سے جاری تباہی کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈائلیسس کے مریضوں کو علاج کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے کیونکہ ضروری سامان موجود نہیں، جبکہ کینسر کے مریض بھی مناسب ادویات سے محروم ہیں۔
یاد رہے کہ غزہ کا صحت کا نظام اسرائیلی جارحیت اور طویل محاصرے کے باعث شدید بحران کا شکار ہے، جس سے مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
