غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور جہاد اسلامی نے قومی وحدت کو مزید مستحکم کرنے اور قابض اسرائیل، یہودی بستیوں کی تعمیر اور ظالمانہ محاصرے کے خلاف کوششوں کو یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ مطالبہ بدھ کے روز لبنان میں دونوں تحریکوں کے عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران کیا گیا۔
اس ملاقات میں حماس کے بیرون ملک قومی تعلقات کے شعبے کے سربراہ علی برکہ اور جہاد اسلامی کے سیاسی بیورو کے رکن احسان عطایا نے شرکت کی، جس میں مسئلہ فلسطین کی تازہ ترین صورتحال اور خطے کے حالات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ پر جاری قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت اور غزہ کی پٹی پر مسلط سفاکانہ محاصرے کی شدید مذمت کی، جبکہ قابض حکومت کی جانب سے شرم الشیخ معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
طرفین نے مسجد اقصی پر آباد کاروں کے بار بار ہونے والے دھاووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے اور مسجد اقصی کی زمانی و مکانی تقسیم کے مذموم منصوبوں کا حصہ ہیں۔
دونوں جماعتوں نے مغربی کنارہ میں زمینوں پر قبضے اور بستیوں کی توسیع کی پالیسیوں کے خلاف سخت وارننگ دی اور اس بات پر زور دیا کہ ان اقدامات کا مقصد زمینی حقائق کو تبدیل کر کے فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔
ملاقات کے شرکاء نے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید اسیران کی ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کیا اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسیران کے تحفظ کے لیے مداخلت کریں اور ان پر ڈھائی جانے والی سفاکیت کا نوٹس لیں۔
اجلاس میں لبنان کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا جہاں دونوں تحریکوں نے اسرائیلی حملوں کے خلاف لبنانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور انروا سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اپنی امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائے۔
ملاقات کے اختتام پر ایک متحدہ قومی حکمت عملی کی تشکیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ آزادی اور خود مختاری کے اہداف کے حصول تک فلسطینی عوام کی استقامت کو ہر ممکن مدد فراہم کی جا سکے۔
