Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس: اقصیٰ کے تاریخی مقامات کو نشانہ بنانا خطرناک نتائج کا باعث بن سکتا ہے

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے قابض اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے صحنوں کے اندر موجود تاریخی اور بنیادی مقامات کو مسلسل نشانہ بنانے کے سنگین نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

حماس نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ حال ہی میں چار اہم مقامات کو متاثر کرنے والے یہ اقدامات ایک صریح خلاف ورزی اور خطرناک اشتعال انگیزی کی نمائندگی کرتے ہیں جس کا مقصد مقدس مقامات کی اسلامی شناخت کو تبدیل کرنا ہے۔

ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ قابض اسرائیل کی نئی پالیسی کا انحصار تاریخی سہولیات اور مقامات کو بے بنیاد سکیورٹی جواز بنا کر خالی کروانے پر ہے۔

تحریک نے فلسطینی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عام نفیر کا اعلان کریں اور مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں قیام کو تیز کریں اور ہر جگہ سے اس کی طرف سفر کریں۔ تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی مزاحمت اور فلسطینیوں کی بھرپور موجودگی ہی ان یہودیانہ منصوبوں کو ناکام بنانے کی ضمانت ہے جنہیں قابض اسرائیل کی انتہا پسند دائیں بازو کی حکومت ایک حقیقت کے طور پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حماس نے عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبلہ اول اور حرمین شریفین کے حوالے سے اپنی تاریخی اور مذہبی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔ نیز عالمی سطح پر سفارتی اور سیاسی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تاکہ قابض اسرائیل کی درندگی کو روکا جا سکے اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور زمانی و مکانی تقسیم مسلط کرنے سے باز رکھا جا سکے۔

تحریک نے عالم عرب اور اسلام کے علماء اور جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ القدس اور اس کے باشندوں کی مدد کے لیے مادی اور انسانی وسائل کو اکٹھا کریں۔ تحریک نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام مقدس شہر کی عرب اور اسلامی شناخت کو مٹانے کی کوششوں کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں گے اور قابض اسرائیل کی حکومت میں شامل انتہا پسند وزراء کی پالیسیوں کے سامنے ہرگز ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔

تحریک نے اپنے بیان کے اختتام پر اس بات کی تصدیق کی کہ مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنانے والے ہر نئے حملے کے ساتھ عوامی غصے کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے۔ حماس نے اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کی اور زور دیا کہ القدس میں تاریخی اور مذہبی حقوق ناقابلِ تنسیخ اور غیر مذاکراتی ہیں اور ان کا دفاع دنیا کے تمام حریت پسندوں پر ایک مقدس فرض ہے۔

ادھر القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے اندر اسلامی اوقاف کے کئی اداروں کو نشانہ بنانے والی اشتعال انگیزی کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ قابض پولیس کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اردن کے اوقاف کے کردار کو کمزور کرنے اور مسجد کے انتظام پر زیادہ کنٹرول حاصل کرنے کی ایک تدریجی کوشش ہے۔

فاؤنڈیشن نے منگل کے روز جاری کردہ ایک پریس بیان میں جو مرکز اطلاعات فلسطین کو موصول ہوا، کہا کہ قابض پولیس نے گذشتہ مہینوں اور ہفتوں کے دوران سکیورٹی وجوہات کا بہانہ بنا کر مسجد اقصیٰ کے اندر سہولیات اور مقامات کو خالی کروانے کی پالیسی میں شدت پیدا کر دی ہے۔ اس نے نشاندہی کی کہ ان اقدامات میں سب سے تازہ ترین ہدف مسجد کے جنوب مغربی حصے میں واقع گنبد موسیٰ تھا۔

فاؤنڈیشن نے وضاحت کی کہ اس پالیسی کا شکار ہونے والی سہولیات کی تعداد بڑھ کر چار ہو گئی ہے، یہ تمام مقامات اسلامی اوقاف کے انتظامی ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال ہوتے تھے جن میں باب الرحمہ نماز گاہ کی چھت پر امام غزالی کا گنبد، مسجد کے شمال مشرقی حصے میں دار الحدیث الشریف، شمالی صحن میں سلیمان کا گنبد اور جنوب مغربی صحن میں گنبد موسیٰ شامل ہیں۔

فاؤنڈیشن کے مطابق قابض حکام ان مقامات پر دھاوا بولنے، ان کے تالے توڑنے اور دوبارہ بند کرنے یا استعمال کرنے سے روکنے کے لیے سکیورٹی کے بے بنیاد بہانے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ ان جگہوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور سکیورٹی کے لیے مضر سرگرمیوں کے دعوے کے تحت وہاں داخل ہونے یا کام کرنے والے ہر شخص کا پیچھا کرتے ہیں۔

فاؤنڈیشن نے کہا کہ یہ پالیسی ان اقدامات سے ملتی جلتی ہے جو پہلے باب الرحمہ نماز گاہ پر طویل برسوں تک مسلط کیے گئے تھے۔ فاؤنڈیشن کا ماننا ہے کہ اس کا مقصد ان سہولیات کو ان کے انتظامی اور مذہبی کام سے خالی کر کے آہستہ آہستہ قابض پولیس کے کنٹرول میں لانا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan