مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے عالمی برادری، متعلقہ ممالک اور تمام فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس میں گھروں کی مسماری کے قتل عام کو روکنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہوں اور قابض اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ فلسطینی عوام کے خلاف ان روزمرہ کے جرائم کا سلسلہ بند کرے۔
حماس نے منگل 28 اپریل سنہ 2026ء کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ قابض صہیونی افواج کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں انہدام کی کارروائیوں میں تیزی لانا اور القدس کی بستیوں بالخصوص الرام، کفر عقب اور قلندیہ پر جاری جارحیت کے سائے میں درجنوں تجارتی و رہائشی تنصیبات کو مسمار کرنے کے نوٹس جاری کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ یہ شہر میں فلسطینیوں کے وجود کے خلاف ایک کھلی جنگ ہے جس کا مقصد القدس کو اس کے اصل باسیوں سے خالی کرنا اور انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔
حماس نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں جاری مسماری کی کارروائیاں اور بڑھتے ہوئے نوٹس تمام بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ یہ منظم طریقے سے شہر کو یہودیانے، نسل کشی اور نسلی تطہیر کی کارروائیوں کا تسلسل ہے جس کے ذریعے مقدس شہر کو انتہائی خطرناک طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بیان کے اختتام پر حماس نے واضح کیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی سرزمین خالصتاً فلسطینی سرزمین رہے گی اور اس پر قابض اسرائیل کو کوئی حقِ حاکمیت حاصل نہیں ہے۔ فلسطینی عوام اپنی زمین اور مٹی پر مضبوطی سے جمے رہیں گے اور وہ اپنی تمام تر دستیاب صلاحیتوں کے ساتھ اس کھلی جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔ قابض اسرائیل کتنی ہی زیادتی کیوں نہ کر لے، فلسطینی قوم یہودیانے اور جبری بے دخلی کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دے گی۔
