مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے بدھ کے روز مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں 13 رہائشی اور زرعی تنصیبات کو مسمار کر دیا ہے۔
القدس گورنری نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ قابض بلدیہ نے قصبہ سلوان کے محلہ البستان میں ایک ضعیف العمر فلسطینی شہری صالح دویک کا گھر مسمار کر دیا۔ قابض حکام نے ان پر سنہ 2024ء سے ماہانہ 500 شیکل جرمانہ بھی عائد کر رکھا ہے اور گھر مسمار کرنے کے باوجود انہیں سنہ 2030ء تک یہ جرمانہ ادا کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیل کی مشینوں نے العیسویہ کے علاقے روابی میں 11 مسماریوں کو انجام دیا جس میں متعدد شہریوں کے مکانات اور تنصیبات کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا۔
یہ کارروائیاں قابض دشمن کی اس پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت بغیر لائسنس تعمیرات کا بہانہ بنا کر فلسطینیوں کی جائیدادیں تباہ کی جاتی ہیں، جبکہ مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں پر عائد کردہ سخت پابندیوں کی وجہ سے تعمیراتی لائسنس کا حصول تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے، یوں شہریوں کو گھروں کی مسماری یا بھاری جرمانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شمالی مقبوضہ بیت المقدس میں واقع قصبے الرام کے علاقے ضاحیہ الاقباط میں بھی تعمیراتی لائسنس نہ ہونے کا بہانہ بنا کر گھوڑوں کا ایک اصطبل مسمار کر دیا گیا۔
مقبوضہ بیت المقدس میں رواں سال کے آغاز سے مسماری کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ القدس گورنری کے ترجمان معروف الرفاعی نے وضاحت کی ہے کہ سنہ 2026ء کے ابتدائی چار مہینوں میں 147 مسماریاں کی گئی ہیں، جو ان کے بقول فلسطینی وجود کو ختم کرنے کی اس پالیسی کا حصہ ہے جو خاص طور پر مسجد اقصیٰ کے قریبی علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔
یہ مسماریاں زیادہ تر سلوان، جبل مکبر، شیخ جراح اور وادی الجوز کے محلوں اور قصبوں میں کی جا رہی ہیں تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کرنے کا صہیونی منصوبہ پورا کیا جا سکے۔
