مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزیر برائے قومی سکیورٹی ایتمار بن گویر نے منگل کی شام یہودی آباد کاروں کے ایک گروہ کے ہمراہ مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں واقع قصبے سلوان پر دھاوا بول دیا۔ اس کارروائی کے دوران قابض اسرائیلی فورسز نے انہیں سخت سکیورٹی فراہم کی۔
مقدس شہر کے ذرائع کے مطابق قابض فورسز نے سلوان قصبے میں باب الاسباط اور راس العامود کے علاقے کی طرف جانے والی سڑک کو بند کر دیا تھا، جبکہ یہودی آباد کاروں نے اس دوران علاقے میں واقع اسلامی قبرستان میں بھی دراندازی کی۔
باب الرحمہ قبرستان اور مسجد اقصیٰ کی مشرقی دیواروں کے ساتھ پھیلے ہوئے تاریخی اسلامی قبرستانوں کو یہودی آباد کاروں کی طرف سے قابض پولیس کی حفاظت میں بار بار نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کارروائیوں میں قبروں کی بے حرمتی، کتبے توڑنا اور قبرستان کے حصوں کو مسمار کرنے جیسے گھنونی حرکتیں شامل ہیں۔
علاقے میں قبرستانوں کی جگہ توراتی باغات اور سیاحتی راستے بنانے جیسے یہودی آباد کاری کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ بعض اوقات ان قبرستانوں کو سکیورٹی چیک پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس سے مقامی فلسطینیوں کا اپنی زمین تک رسائی کا حق سلب کر لیا گیا ہے۔
سلوان قصبہ مقبوضہ بیت المقدس کے سب سے حساس علاقوں میں شمار ہوتا ہے کیونکہ یہ قدیم شہر کے بالکل ساتھ واقع ہے اور جنوب و جنوب مشرق سے مسجد اقصیٰ کو گھیرے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ صہیونی آباد کاری کے منصوبوں اور ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی سازشوں کا مستقل ہدف رہتا ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس اور اس کے مکینوں پر مزید پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جبکہ مسجد اقصیٰ پر مسلسل دھاوے اور شہر میں نیا حقیقت پسندانہ منظرنامہ مسلط کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
