نئی دہلی – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے برکس گروپ کی اٹھارویں سربراہی کانفرنس کے موقع پر جاری ہونے والے نئی دہلی اعلامیہ 2026ء میں شامل ان بیانات کا خیرمقدم کیا جنہیں اس نے فلسطینی کاز کے حوالے سے مثبت اور ترقی پسند قرار دیا،۔ اس میں موجود اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابل تنسیخ حقوق کی تصدیق کی گئی ہے۔
ایک اخباری بیان میں حماس نے اعلامیے کی اس بات پر تحسین کی کہ اس نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور واپسی کے حق کی حمایت کی ہے، سال 1967ء کی سرحدوں پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو، اس کے ساتھ ریاست فلسطین کو اقوام متحدہ کی باضابطہ رکنیت دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
حماس نے اس موقف کی پرزور ستائش کی جو فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی جبری نقل مکانی کا، خواہ وہ عارضی ہو یا مستقل، سختی سے انکار کرتا ہے۔ اسی طرح غزہ کی پٹی میں کسی بھی جغرافیایی یا ڈیموگرافک تبدیلی لانے کی مخالفت کرتا ہے۔
حماس نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ اعلامیے میں غیر قانونی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے، مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے کی جانے والی یکطرفہ کارروائیوں کو مسترد کیا گیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مقدس مقامات کے تقدس کے احترام اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے احکام کی پاسداری پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اسی طرح اس نے اس بات کا بھی نوٹس لیا کہ اعلامیے میں بھوک کو جنگ کے ایک ہتھیارکے طور پر استعمال کرنے، شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے، انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے یا اسے سیاسی رنگ دینے اور عسکری بنانے کی مذمت کی گئی ہے، اس کے علاوہ فلسطینی مہجَرین کے لیے اقوام متحدہ کی امداد اور کام کرنے والی ایجنسی ’انروا‘ اور اس کے بین الاقوامی مینڈیٹ کی غیر متزلزل حمایت کی تصدیق کی گئی ہے۔
حماس نے برکس گروپ کے ممالک سے اپیل کی کہ وہ ان بیانات کی سطح سے اٹھ کر عملی اقدامات کی طرف منتقل ہوں جو قابض دشمن کی خلاف ورزیوں کے خاتمے اور اس کے بساط لپیٹنے، فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں آزادی، حقِ خودارادیت اور مقبوضہ بیت المقدس کو دارالحکومت بنانے والی آزاد ریاست کے قیام کے حق سے بہرہ مند کرنے میں مدد دیں۔
اعلامیہ
ہندوستان میں ہفتے کے روز منعقد ہونے والی برکس گروپ کے رہنماؤں کی 18 ویں سربراہی کانفرنس کے اختتام پر جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں غزہ کی پٹی اور مقبوضہ غرب اردن سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی سخت مخالفت کا اظہار کیا گیا۔
سربراہی کانفرنس کے مشترکہ بیان میں غزہ کی پٹی سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
بیان میں اکتوبر سنہ 2025ء میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود فلسطینی علاقوں میں جاری تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ میں انتہائی درجے کی تحمل پسندی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی گئی۔
