Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اندرونِ فلسطین میں اذان پر قدغن، مؤذنین کے خلاف جرمانوں کی مہم تیز

مقبوضہ فلسطین – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی حکام نے مقبوضہ اندرونِ فلسطین میں مذہبی اور عرب شعائر کو محدود کرنے کے اپنے مذموم اقدامات میں خطرناک حد تک تیزی لائی ہے، جس کے تحت ماحول اور شور شرابے کے قوانین کی آڑ میں مؤذنين پر سیکڑوں مالی جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں، جو کہ ایک ایسا قدم ہے جسے فلسطینی آزادیٔ عبادت اور اسلامی تشخص پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہیں۔

اسرائیلی نام نہاد “محکمہ ماحولیاتی معیار” نے شور کی آلودگی کو محدود کرنے کے جھوٹے بہانے کے تحت اندرونِ فلسطین کے کئی شہروں میں مؤذنين کے خلاف سیکڑوں جرمانے عائد کیے ہیں، ایسے وقت میں جب یہ اقدامات مساجد میں اذان کی بلند آواز کو محدود کرنے کی وسیع تر پالیسیوں کے ساتھ بیک وقت رونما ہو رہے ہیں۔

فلسطینی وکیل خالد زبارقہ نے انکشاف کیا کہ الخلیل شہر کے مساجد کے اماموں کو صرف اذان دینے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر وزارتِ ماحولیاتی تحفظ کی طرف سے جاری کردہ ایک سو پچاس سے زیادہ مالی جرمانے موصول ہوئے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ہر مؤذن کو ملنے والا نوٹس یا مالی جرمانہ اس کے کندھوں پر بوجھ بنتا ہے اور مذہبی شعائر کی ادائیگی کی آزادی پر براہِ راست وار کرتا ہے۔

وکیل زبارقہ نے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض انتظامی کارروائیوں سے بالاتر ہے، بلکہ یہ وزارتِ ماحولیاتی تحفظ کی طرف سے بلدیہ اور قابض پولیس کے ساتھ مل کر نافذ کی جانے والی ایک مکمل اور مربوط پالیسی کی تشکیل کرتا ہے، جس کا مقصد عرب اور اسلامی وجود کا گھٹرا تنگ کرنا اور اذان کی آواز کو دبانا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ قابض حکام ظاہری طور پر شور اور ماحول کے ضوابط کے قوانین کا سہارا لیتے ہیں، جبکہ ان قوانین کو ان کی تشریح کے مطابق، مالی دباؤ اور قانونی تعاقب کے ذریعے ایک نئی حقیقت مسلط کرنے کے مکارانہ سیاسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک پردے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بار بار عائد کیے جانے والے جرمانوں کا مقصد مساجد اور باسیوں کو تھکا دینا اور انہیں اپنے شعائر کی ادائیگی کو محدود کرنے پر مجبور کرنا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اذان فلسطینی، عرب اور اسلامی تشخص کا ایک لازمی حصہ ہے، اور یہ پالیسیاں اس موجودگی کو مٹانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گی۔

انہوں نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ کئی وکلاء نے مؤذنين کے خلاف بڑھتے ہوئے ان اقدامات کو چیلنج کرنے اور انہیں روکنے کی کوشش میں قابض عدالتوں میں اعتراضات جمع کرائے ہیں۔

یہ اقدامات اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی طرف سے حال ہی میں اس قانون کی منظوری کے بعد سامنے آئے ہیں جو اندرونِ فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کی مساجد میں اذان دینے پر پابندی عائد کرتا ہے،اس میں قانون توڑنے والوں پر جرمانے عائد کرنے کی شق شامل ہے، جسے فلسطینی ایک ایسے خوفناک اقدام کے طور پر بیان کرتے ہیں جو مقبوضہ علاقوں میں مذہبی آزادیوں اور عرب وجود کو نشانہ بناتا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan